ہم آن لائن بزنس کرنا چاہ رہے ہیں ، اس میں ڈراپ شپنگ کے متعلق فتوی چاہیئے ، اگر ہم سیلر سے پہلے عقد کر لیں کہ آپ کا سامان ہم آن لائن سیل کریں گے، لیکن وہ سامان اپنے پاس رکھتا ہے، جب آرڈر آتا ہے ،تو وہ وہیں سے کسٹمر کو بھیج دیتا ہے، ہمارے پاس سامان نہیں آتا، کیا ڈراپ شپنگ کی یہ صورت جائز ہے؟ سلم کا ایک عقد ہوتا ہے وہ اس پر اپلائی ہوتا ہے ؟
واضح ہو کہ خرید و فروخت کے جائز ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ بیچنے والا جس چیز کو بیچ رہا ہے ،وہ اس کی ملکیت اور حسی یا معنوی قبضے میں ہو، ورنہ بیع شرعاً جائز نہ ہو گی، بلکہ باطل اور کالعدم شمار ہو گی۔
جبکہ ڈراپ شپنگ میں کاروبار کرنے والے کا حسی یا معنوی طور پر کوئی اسٹور موجود نہیں ہوتا ،جس میں وہ سامان کا اسٹاک رکھے ، اس لئے جب کوئی چیز اپنے گاہک کو بیچتا ہے، تو وہ عقد کے وقت اس کی ملکیت میں نہیں ہوتی، بلکہ خریداری کا معاہدہ ہو جانے کے بعد خرید کر گاہک کو دید یتا ہے ، لہذا غیر مملوک چیز کی بیع ہونے کی بناء مذکور معاملہ شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
البتہ اس کے جواز کی دوصور تیں ہو سکتی ہیں: ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ڈراپ شپنگ کا کاروبار کرنے والا معاملہ کی ابتداء میں اپنے گاہک کو یہ نہ کہے کہ یہ چیز میں آپ کو بیچ رہا ہوں، بلکہ یہ کہے کہ اس چیز کے بیچنے کا معاہدہ کرتا ہوں، اس طرح یہ بیع نہیں، بلکہ وعدۂ بیع ہو جاتا ہے ،اور اس وقت رقم لینا ہامش الجدیہ (پیشگی ادائیگی) کے طور پر درست ہو گا، پھر وہ ہول سیلر دوکاندار سے مطلوبہ آیٹم خرید کر خود یا وکیل کے ذریعہ حسی یا معنوی قبضہ میں اس طور پر لے لیں کہ وہ چیز فروخت کرنے والے کے ضمان میں آجائے، تب خریدار کو فروخت کر کے ڈیلیور کر دے۔
دوسری جائز متبادل صورت وکالت / دلال کی ہے کہ آرڈر لینے والا ہول سیلر یاد دکاندار کی طرف سے وکیل کے طور پر سامان لے کر گاہک تک پہنچائے ،یا وہ ہول سیلر /دوکاندار از خود کسٹمر تک پہنچادے ،اور اپنی محنت کی طے شد ہ اجرت لے ، تو اس صورت میں اصل بائع وہ ہول سیلر یا دوکاندار ہوگا اور آرڈر دینے والے کی حیثیت ایک بروکر کی ہو گی، جو شریعت میں ایک قابلِ عوض محنت ہے، جس پر مقررہ اجرت لینا شرعاً جائز ہے۔
كما في الهداية شرح البداية: قال ولا يجوز بيع السمك قبل أن يصطاد لأنه باع ما لا يملكه ولا في حظيرة إذا كان لا يؤخذ إلا بصيد لأنه غير مقدور التسليم ومعناه إذا أخذه ثم ألقاه فيها ولو كان يؤخذ من غيره حيلة جاز إلا إذا اجتمعت فيها بأنفسها ولم يسد عليها المثل لعدم الملك اھ (3/ 43)۔
في فتح القدير للكمال ابن الهمام: ومثل الأمر المضارع المقرون بالسين نحو سأبيعك فلا يصح بيعا ولا يتجوز به في معنى بعتك في الحال.فإن ذكر السين يناقض إرادة الحال اھ (6/ 251)۔
وفي حاشية ابن عابدين: وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة اھ (6/ 63) ۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1