السلام علیکم
ایسی پرانی چونے سے بنی ٹوٹی پھوٹی مزارات جو درگاہ کے احاطے باؤنڈری کے اندر 300 سال اندازاً پرانے ہیں،عرض یہ ہے کہ حضرت مستان ولی درگاہ کی آمدنی کے لئے اس جگہ پر جہاں قبریں یا مزارات ہیں،جن کا نام کچھ پتہ نہیں،کیا وہاں دکان بنا سکتے ہیں؟ صرف درگاہ کے اخراجات کے لئے،یہ جائز ہے یا نہیں؟
واضح ہوکہ زمین جس مقصد کے لئے وقف کی جائے،اسی مقصد میں اسے استعمال کرنا شرعاً لازم اور ضروری ہے،کسی اور مقصد میں استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں،چنانچہ صورتِ مسئولہ میں اگر مذکور قبرستان وقف ہو اور واقف نے صرف تدفین کے لئے ہی زمین وقف کی ہو تو اس کو تدفین کے لئے ہی استعمال کرنا شرعاً ضروری ہے،لہذا سائل کا مذکور وقف شدہ قبرستان میں دکانیں بنانا شرعاً جائز نہیں،جس سے احتراز لازم ہے۔
کمافی الدر المختار: الوقف لایملك ولایملك الخ ای لایقبل التملیك لغیرہ بالبیع ونحوہ لاستحالة تملیك الخارج عن ملکه اھ(4/421)۔
وفی الفقه الاسلامی وادلته: اذا صح الوقف خرج عن ملك الواقف وصار حبیساً علیٰ حکم اللہ تعالیٰ ولم یدخل فی ملك الموقوف علیه،بدلیل انتقاله عنه بشرط الواقف(المالك الاول) کسائر املاکه اھ(8/167)۔