اگر شوہر اپنی بیوی کے لئے یہ بولے کہ میں نے اس سے Sexual تعلق رکھا تو اسے تین طلاقیں، جبکہ وہ ایک طلاق دے کر رجوع کرچکا ہو۔
صورتِ مسئولہ میں شخص مذکور اگر اپنی مدخول بہا بیوی کو ایک طلاق صریح الفاظ میں دے کر رجوع کر چکا تھا تو یہ رجوع شرعاً درست ہو چکا تھا اور نکاح بدستور برقرار ر ہا، البتہ اس کے بعد اگر مذکور جملہ” میں نےاس سے Sexual (جنسی) تعلق رکھا تو اسے تین طلاقیں " کہا ہو تو اس سے تین طلاقیں معلق ہو چکی ہیں، چنانچہ جب بھی شخصِ مذکور اپنی بیوی سے ہمبستری وغیرہ کرے گا تواس کی بیوی پر بقیہ دو طلاقیں بھی واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو جائے گی، اور نکاخ ختم ہو کر دونوں ایک دوسرے کیلئے اجنبی بن جائیں گے، جس کے بعد نہ رجوع ہو سکے گا اور نہ ہی حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِِ نکاح ہو سکے گا اور عورت ایامِ عدت کے بعد دوسری جگہ پر نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ۔
کمافی الدرالمختار:(علق الثلاث أو العتق) لأمته (بالوطء) حنث بالتقاء الختانين(3/365)-
وفي الھندیة: وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا(1/420)-
وفي الھدایة: ولو قال لامرأته إذا جامعتك فأنت طالق ثلاثا فجامعها فلما التقى الختانان طلقت ثلاثا(1/246)-
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0