السلام علیکم !
میں ایک کمپنی میں کام کرتا ہوں، جہاں ملازمین کو فیول کارڈ دیا جاتا ہے ، اور اس کی ایک حد ہے، جیسے 100 لیٹر وغیرہ، جس مہینے جتنا پیٹرول استعمال ہوتا ہے، کمپنی اس کابل ڈائیریکٹ فیول کمپنی کو ادا کر دیتی ہے، اگر کسی کو 100 لیٹر Allow ہے، اور اس نے 90 لیٹر استعمال کیا ،تو کمپنی 90 لیٹر کے پیسے ادا کر دے گی، سوال یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس پیٹرول پورا خرچ نہیں ہو تا جیسے کہ اوپر مثال میں 10 لیٹر بن گیا تو کیا وہ باقی پیٹرول کو کسی اور کو بیچ کے پیسے لے سکتا ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ کسی بھی ادارے کی طرف سے اپنے ملازمین کے لئے پیٹرول یا علاج معالجہ کی مد میں سہولت میسر کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ملازم اس مقدار تک اس سہولت سے استفادہ کر سکتا ہے، اور مقررہ اخراجات سے زیادہ کی ذمہ داری ادارے پر عائد نہ ہوگی، لیکن مطلوبہ مقدار مکمل کرنا کوئی لازم اور ضروری نہیں ، اور نہ ہی عموماً اس سہولت میں ادارے کی طرف سے پیٹرول کے بجائے پیسے لینے یا اضافی پیٹرول بیچنے کی اجازت ہوتی ہے، لہذا اگر کمپنی کی طرف سے ملازمین کو اضافی پیٹرول بیچنے کی اجازت نہ ہو تو ملازمین کے لئے اضافی پیٹرول کسی کو دے کر پیسے لینا جائز نہ ہوگا۔
كما قال الله تعالى: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ﴾ (النساء: 29)۔
ففي مشكاة المصابيح: عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه". رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى (2/ 165)۔
و في الدر المختار: لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته اھ (6/ 200) -
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1