السلام علیکم
میرے ایک دوست کسی بڑے گناہ میں مبتلا تھے جو اسکی عادت ہو چکی تھی , بہت کوشش کی کہ میں اس گناہ کو چھوڑ دوں لیکن شیطان اور نفس کی وجہ سے وہ پھر وہ گناہ کرتا , آخر بہت تنگ آکر اس نے اپنے ساتھ ایک قسم کھائی کہ اگر میں نے آئندہ یہ گناہ کیا تو میری بیوی مجھ پر طلاق ہے -
اس کے بعد اس نے اس ڈر سے وہ گناہ چھوڑ دیا لیکن پھر چار سال بعد ایک دن اس نے پھر وہ گناہ کیا جس سے اس نے توبہ کی تھی اور طلاق لی تھی -
ابھی اس کو یہ فکر ہے کہ اب میرے نکاح کا کیا ہوگا, دو سال گزر گئے لیکن دل میں ایک داغ ہے کہ کہیں میرا نکاح تو نہیں ٹوٹا, برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں - شکریہ
صورتِ مسئولہ میں سائل کے دوست کا مذکور جملہ"اگر میں نے آئندہ یہ گناہ کیا تو میری بیوی مجھ پر طلاق ہے"ایک بار ہی کہا ہو تو اس سے اسکی بیوی پر ایک طلاق معلق ہوچکی تھی ، لہذا جب اس نے چار سال بعد وہ گناہ کیا تو اس کی بیوی پر مذکور ایک معلق طلاق واقع ہوگئی تھی ،جس کے بعد سائل کے مذکور دوست نے اگر عدت کے اندر زبانی یا عملی طور پر رجوع کرلیا ہو تو ان کا میاں بیوی کی طرح رہنابھی درست رہا ہے ، اس سے پہلے یا بعد میں سائل کے مذکور دوست نے کبھی کوئی زبانی یا تحریری طلاق نہ دی ہو تو اس کے پاس اب صرف دو طلاقوں کا اختیار ہے ، جب کبھی وہ دو طلاقیں بھی دیدے گا تو اس کی بیوی حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائے گی،جس کے بعد حلالۂ شرعیہ کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا ،لہذا آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط لازم ہے -
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0