کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرعِ متین درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں ، میں ایک شادی شدہ بچوں والی عورت ہوں،آج سے تقریباً چھ ، سات سال پہلے میرے میکے والوں نے مجھے ایک پڑیا ( بھینس کی بچی) بطور ہبہ کے دی تھی ، میں نے اور میرے سسرال والوں نے اس کو پالا ،وہ بھینس بن گئی ، سب نے اسکا دودھ پیا ، اور اسکا دودھ قیمت کے عوض بیچا ، وقت گزرتا گیا ،اس نے کئی بھینس پیدا کیں ، جن میں سے ایک بھینس کو میرے سسرال والوں نے میرے دیور کے ولیمہ میں ذبح کر دیا ، اور کچھ دن کے بعد خود بڑی بھینس کو موٹی رقم میں بیچ دیا ، (تب تک ہم ساجھا ہی رہتے تھے) اس کے پیسے گھر کی ضروریات میں صرف ہو گئے، اسکے بعد ہم الگ ہو گئے پھر الگ ہونے کے بعد میرے سسرال والوں نے میری بھینس سے پیدا ہونے والی دو اور بھینسیں بیچ دیں، جنکی رقم انہوں نے خود استعمال کر لی ، اب میں ان سے الگ ہونے کے بعد بیچی گئی آخر الذکر دو بھینسوں کی رقم کا مطالبہ کرتی ہوں ، تو وہ کہتے ہیں ،تمہاری بچھڑی کو بھینس ہم نے بنایا ، وہ ساجھا میں آئی تھی ، اس پر تمہارا کوئی حق نہیں ہے ، ہم تم کو ایک اتنی ہی بڑی بچھڑی دے دینگے ، جتنی بڑی تم میکے سے لائی تھی ، صرف اتنا تمہارا حق ہے ،باقی محنت ہماری لگی ہے ،میرا کہنا یہ ہے کہ جو تم نے اس بچھڑی پر بھینس بنانے میں محنت کی ، اسکی جگہ تم نے اسکا دودھ پی لیا، دودھ بیچ لیا ، اسکا ایک بڑا بچہ تم نے ولیمہ میں ذبح کر دیا ، پھر خود اس اصل بھینس کو بیچ دیا ، یعنی اپنی محنت کا عوض تم حاصل کر چکے ہو ،اب تم کو مزید حق نہیں،دریافت امر یہ ہے کہ مجھے ہبہ میں ملنے والی بچھڑی پر کس کا حق ہے؟اس سے جو تین بھینس پیدا ہوئیں ان پر کس کا حق ہے؟ جو ایک بھینس ساجھا میں بیچی گئی،اور جو دو بھینس الگ ہونے کے بعد بیچی گئیں ، ان پر میرا حق کتنا ہے؟کیا مجھے قیمت کا مطالبہ کرنے کا حق ہے یا سسرال والے صحیح ہیں؟
سائلہ کو اس کے اہلِ خانہ کی طرف سے باقاعدہ مالکانہ طور پر جو بھینس کی بچی گفٹ کی گئی تھی ، وہ شرعاً سائلہ کی ملکیت تھی ، چنانچہ اس بھینس نے جتنے بچے دیے ،وہ بھی سارے کے سارے سائلہ ہی کی ملکیت تھے ،لیکن مشترکہ رہائش کے دوران سائلہ کے سسرال والوں نے بھینس کا دودھ استعمال کیا ہے ،یا سائلہ کے دیور کے ولیمے میں مذکور بھینس کا ایک بچہ ذبح کیا گیا ہے ، یا بھینس کو فروخت کرکے حاصل شدہ رقم کو گھر کے مشترکہ ضروریات میں خرچ کیا گیا ہے ، اگر یہ سب سائلہ کی اجازت و رضامندی سے ہوا ہو ،(جیسا کہ عموماً مشترکہ فیملی میں ایسا ہی ہوتا ہے) ،تو ایسی صورت میں سائلہ کو اپنے سسرال والوں سے استعمال شدہ دودھ ،ذبح شدہ یا فروخت کردہ بھینس کی قیمت کے مطالبے کا حق حاصل نہ ہوگا ، البتہ علیحدگی کے بعد سائلہ کے سسرال والوں نے سائلہ کی جو دو بھینس بیچ کر حاصل شدہ رقم اپنے استعمال میں لائے ہیں ،اگر ایسا انہوں نے سائلہ کی اجازت و رضامندی کے بغیر کیا ہو ،(جیسا کہ سوال سے بظا ہر یہی معلوم ہورہا ہے ) تو ایسی صورت میں سائلہ کیلئے اپنے سسرال والوں سے ان بھینسوں کی قیمت کا مطالبہ کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہو گا۔
کما فی الدر المختار : (و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) و الأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها،اھ(5691)۔
و فی الشامیۃ : لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي. (4/61)۔
و فی الہندیہ :و منها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض اھ(4/374)