براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ طلاق واقع ہوگی یا نہیں ،شوہر نے اپنی بیوی سے کہا کہ "تم میرے نکاح میں نہیں ہوگی‘‘ اگر تم نے کسی مرد سے تعلق رکھا شادی کے دوران اور تم میری اجازت کے بغیر گھر سے باہر گئی"
صورت مسئولہ میں شوہر نے مذکور جملے " تم میرے نکاح میں نہیں ہو گی اگر تم نے کسی مرد سے تعلق رکھا شادی کے دوران اورتم میری اجازت کے بغیر گھر سے باہر گئی " کہتے وقت اگر طلاق کی نیت کی ہو تو اس سے اسکی بیوی پر ایک طلاق بائن معلق ہو چکی ہے، لہذا اسکے بعد اگر مذکور شخص کی بیوی نے کسی مرد سے تعلق رکھا اورشوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر گئی تو اس سے اسکی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو کر دونوں کا نکاح ختم ہو جائیگا، جسکے بعد بغیر نکاح کے دونوں کیلئے ایک ساتھ رہنا جائز نہ ہو گا ، تاہم اگردونوں میاں بیوی باہمی رضا مندی سے دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں تجدید نکاح لازم ہو گا، تاہم اس نکاح کے بعد آئندہ کیلئے شوہر کو فقط دو / ۲ طلاقوں کا اختیار ہو گا۔
كما فى الهندية: ولو قال لها لا نكاح بيني وبينك أو قال لم يبق بيني وبينك نكاح يقع الطلاق إذا نوى اھ (375/1)
فيها ايضا : والأصل إذا علق بفعلين يقع عند آخرهما لأنه إن وقع عند أولهما صار و متعلقا بأحدهما وإن علق بأحد الفعلين يقع عند أولهما اھ (369/1)
و في العناية: (وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق وهذا بالاتفاق (116/4) ۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0