میری خالہ نے مجھے بچپن میں گود لے لیا تھا ,میں ان کی شرعی اور قانونی طور پہ وارث نہیں بنتی وہ اپنی جائیداد میرے نام کرے تو یہ جائز ہے؟
امی کے وارث یعنی ماموں خالہ وغیرہ مالی طور پہ سیٹ ہیں
واضح ہوکہ لے پالک بچہ یا بچی کو حقیقی اولاد کی طرح وراثت میں حصہ نہیں ملتا ،بلکہ لے پالک بچہ کے والدین جنہوں نے اسکی پرورش کی ہے وہ لے پالک کو اپنی جائیداد سے کچھ دینا چاہیں تو ان کو چاہیئے کہ وہ اپنی زندگی میں خاندان کے چند لوگوں کو گواہ بناکر لے پالک بچہ کیلئے وصیت کردیں کہ ہمارے مرنے کے بعد ہماری جائیداد سے لے پالک بچہ کو بھی حصہ دیاجائے ، اگر وہ ایسا نہ کریں تو صرف نام کروانےسے کوئی جائیداد لے پالک بچہ یا بچی کی ملکیت میں داخل نہ ہوگی،بلکہ وہ بدستور لے پالک والدین کی ملکیت میں رہ کر ان کے انتقال کے بعد اسکے شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگی،لہذا سائلہ کی مذکور خالہ وغیرہ کو چاہیئے کہ جائیداد نام کرنے کے بجائے وہ جائیداد باقاعدہ مالکانہ قبضہ و حقوق کے ساتھ سائلہ کے حوالہ کردے تو اس سے ہبہ تام ہوجائے گا،اور سائلہ اس جائیداد کی مالک شمار ہوگی،بعد میں خالہ یا اسکے شوہر کے انتقال کے بعد اس جائیداد میں کسی کا حصہ نہ ہوگا -