عبیدہ کی اولاد نہیں , اسکی جائیداد میں ایک شوہر کی طرف سے ، 2میکے کی طرف سے گھر ہیں اور کچھ زمین کا ٹکڑا , اسکے ورثاء مالی طور پہ سیٹ ہیں ,انہوں نے زمین کا ٹکڑا مدرسہ کیلئے وقف کردیا ہے اور چاہ رہی ہیں کہ ایک شوہر کی طرف سے اور ایک میکے کی طرف سے ڈبل سٹوری مکان اپنی لے پالک بیٹی کو دے دیں اور سنگل سٹوری مدرسہ کیلئے انتظامیہ مانگ رہی ہے وہاں دے دیں , لیکن انکے بھائی نے انکو کہا کہ جو ورثاء کو محروم کرے گا وہ جہنم کا ایندھن بنے گا , وہ اب کنفیوز ہیں کہ لے پالک کے نام کرنے سے وہ گناہگار ہوں گی ؟ کیا اس بات کی کوئی شرعی حیثیت ہے؟ وہ اپنی جائیداد میں سے لے پالک کو کچھ نہیں دے سکتی جبکہ ورثاء مالی طور پہ بہتر بھی ہوں؟ یا اگر مدرسہ کو نہ دیں تو صرف سنگل سٹوری ورثاء کیلئے کافی ہوگی؟ انکے پاس 17 لاکھ کی مالیت ہے, لے پالک بیٹی کہہ رہی ہے کہ اس کو دیں وہ اپنا زیور بیچ کر اور ان پیسوں کو ملا کر کوئی پلاٹ خرید لے، کیا اس میں بھی ورثاء کا حصہ ہے یا بیٹی کو دیا جاسکتا ہے ؟
واضح ہوکہ اپنی زندگی میں اپنی مال و جائیداد کا انسان تنہا مالک و مختار ہوتاہے،وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کرنا چاہے کرسکتاہے،لہذا صورت مسئولہ میں مذکور خالہ کے بھائیوں کا اپنی بہن کو مذکور حدیث سنانا اور اس کو اپنے متعلق بیان کرنا درست نہیں،جس سے احتراز لازم ہے -