السلام علیکم !
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
سائل نے اپنا گھر تعمیر کروایا ،باتھروم میں کموڈ ( پاتھ) پہ جب بیٹھتے ہیں، تو چہرہ مشرق کی طرف ہوتا ہے ،اور پیٹھ کعبہ شریف کی طرف، ایک مولوی صاحب نے کہا : چاروں باتھروم توڑ کر دوبارہ بنوا ؤ،یہ گناہ ہے ،قرآن وسنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں !اللہ کریم جزائے خیر عطا فرمائے !منجانب :محمد شعیب۔
واضح ہوکہ قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا یا پیٹھ کرنا گنا ہ ہے ،جس پر احادیث ِ مبارکہ میں ممانعت وارد ہوئی ہے،لہذا سائل کو چاہیئے کہ مذکور بیت الخلاؤں کو توڑ کر درست سمت یعنی شمالاً جنوباً بنالے۔
کما فی صحیح البخاری: عن ابی ایوب الانصاری ۔رضی اللہ عنہ۔ قال : قال رسول اللہ ﷺ : اذا اتی احدکم الغائط فلایستقبل القبلة ولایولھا ظھرہ ، شرقوا او غربوا اھ ( ٢٦/١)
وفی صحیح مسلم: عن ابی ایوب الانصاری ۔رضی اللہ عنہ۔: ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : "اذا اتیتم الغائط فلاتستقبلوا القبلة ،ولاتستدبروھا ببول ولاغائط ،ولکن شرقوا او غربوا " اھ ( 1/224)۔
وفی الدر المختار : کرہ تحریماً استقبال القبلۃ واستدبارھا لاجل بول او غائط ولو فی بنیان لاطلاق النہی اھ(٣٤١/١) والله اعلم
جس دکان میں گانے، فلمیں وغیرہ ڈاؤن ہوتی ہوں اس کا نام ’’مدینہ موبائل کمیونکیشن‘‘ رکھنا
یونیکوڈ آداب حرمین 0