کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے شہر اور گاؤں بنوں میں اور اس کے مضافات میں یہ سلسلہ جاری ہے کہ عشاء کی نماز میں خصوصاً اور دیگر نمازوں میں عموماً وقت کے داخل ہونے سے پہلے اذان دی جاتی ہے اور نماز پڑھائی جاتی ہے، کبھی یہ وقت ، وقت دخول سے پندرہ منٹ پہلے تک ہو تا ہے ، پوچھنا یہ ہے کہ وقت سے پہلے دی جانے والی اذان اور نماز کا کیا حکم ہے ؟
نماز کا وقت داخل ہونے سے قبل اذان دینا یا نماز ادا کر ناجائز نہیں اور اسی طرح پڑھی گئی نماز اداہی نہیں ہوتی ، بلکہ وقت داخل ہونے کے بعد اذان اور نماز کا اعادہ ضروری ہے ، لہٰذامذ کور شہر ، گاؤں والوں کا یہ طرزِ عمل درست نہیں، بلکہ ان پر لازم ہے کہ وقت داخل ہونے کا انتظار کر یں اور وقت داخل ہونے کے بعد اذان و نماز کا اہتمام کر یں ۔
في الدر المختار: (فيعاد أذان وقع) بعضه (قبله) كالإقامة خلافا للثاني في الفجر اھ(1/ 385)۔
و في الفتاوى الهندية: وإن صلى المريض قبل الوقت عمدا أو خطأ مخافة أن يشغله المرض عن الصلاة لم يجزئه اھ (1/ 138)۔