میرا سوال یہ ہے کہ میرے بڑے بھائی پے بہت زیادہ قرضہ ہے اور میرے والد مالدار ہیں اور اچھا کاروبار ہے اور وہ میرے بھائی کو کہتے ہیں کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے دینے کو تو جان تیرا کام جانے اب وہ کیا کرے جائیداد میں حصہ مانگے مہربانی کرکے بتائیں۔
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں اپنے مال جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے ،اس کی زندگی میں اولاد (بیٹوں بیٹیوں) کا اس کے مال و جائیداد میں کوئی حق نہیں ہوتا ، لہذا سائل کا بڑا بھائی اپنے والد سےاس کے مال و جائیداد میں شرعاً حصے کا مطالبہ نہیں کرسکتا ، البتہ اگر وہ مقروض ہو اور اس کے ذرائع آمدن نہ ہوں تو اس کے ساتھ تعاون کرنا بہت بڑے اجر ثواب کا کام ہے،لہذا سائل کےوالد اگر اپنی استطاعت کے مطابق اپنے بیٹے کے ساتھ تعاون کرےتو امید ہے کہ اسےاجروثواب حاصل ہوگا۔
كما في البحر: واما بيان الوقت الذى يجرى فيه الارث فنقول هذا فصل اختلف المشایخ فيه قال مشایخ العراق الارث يثبت في آخر جزء من اجزاء حياة المورث، وقال مشایخ بلخ الارث يثبت بعد موت المورث (8/48)
وفى الشامية:وشروطه ثلاثة موت مورث حقيقية، أو حكما كمفقوداو القديراً كجنين فيه غرۃ ووجود وارثه عند موته حياً حقيقية أو تقديرا كالعمل والعلم بجھة ارثه۔(6/105)