السلام علیکم!
مفتی صاحب ! جناب ہمارے بنوں کے دائمی نقشہ برائے نماز میں عشاء کا وقت 9:12 پر داخل ہوتا ہے، لیکن لوگ اس سے پہلے اذان دیتے ہیں 9:05 یا 9:01 پر،تو کیا یہ آذان ٹھیک ہے اور اس آذان کی وجہ سے عورتیں گھروں میں نماز بھی پڑھتی ہیں،تو کیا اس آذان پر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ اذان کے اوقات بھی وہی ہیں جو فرض نمازوں کے اوقات ہیں،تاہم عشاء کا وقت داخل ہونے میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور صاحبین رحمہما اللہ کا اختلاف ہے،صاحبین رحمہما اللہ کے ہاں عشاء کا وقت اس وقت داخل ہوتا ہے جب سورج غروب ہونے کے بعد افق پر سے سرخی (شفق احمر) غائب ہو جائے، جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ہاں عشاء کا وقت شفق احمر کے غائب ہونے کے بعد شروع نہیں ہوتا بلکہ اسکے بعد جب افق سے سفیدی (شفق ابیض) غائب ہو کر تاریکی آجائے تو عشاء کا وقت شروع ہو جاتا ہے اور نماز کے نقشوں میں عموماً امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول کے مطابق وقت درج ہوتا ہے، اور احتیاط اسی میں ہے کہ عشاء کی نماز اس وقت پڑھی جائے جب شفق ابیض غائب ہو جائے ،لہٰذا جو نمازیں نقشے کے مطابق وقت داخل ہونے سے پانچ دس منٹ قبل پڑھی گئی ہیں تو اس وقت چونکہ ان علاقوں میں شفق احمر غائب ہو کر صاحبین رحمہما اللہ کے نزدیک عشاء کا وقت داخل ہو چکا ہوتا ہے،اس لئے حرج اور مشقت سے بچنے کے لۓ گزشتہ ایام کی نمازوں کو لوٹانا لازم نہیں،تاہم اہلِ علاقہ کو چاہیئے کہ آئندہ کے لئے نقشے کے مطابق عشاء کا وقت داخل ہونے کے بعد عشاء کی اذان اور نماز پڑھنے کا اہتمام کریں۔
فی بدائع الصنائع : [فصل بيان وقت الأذان و الإقامة]
(فصل) :و أما بيان وقت الأذان و الإقامة فوقتهما ما هو وقت الصلوات المكتوبات ، حتى لو أذن قبل دخول الوقت لا يجزئه و يعيده إذا دخل الوقت في الصلوات كلها في قول أبي حنيفة و محمد .(1/154)-
و فی الدر المختار :(و) وقت(المغرب منه إلى)غروب(الشفق و هو الحمرة)عندهما ، و به قالت الثلاثة و إليه رجع الإمام كما في شروح المجمع و غيرها ، فكان هو المذهب .(و)وقت (العشاء و الوتر منه إلى الصبح ، اھ (1/161)-
و فی رد المحتار:(قوله : و إليه رجع الإمام) أي إلى قولهما الذي هو رواية عنه أيضا ، و صرح في المجمع بأن عليها الفتوى ، و رده المحقق في الفتح بأنه لا يساعده رواية و لا دراية إلخ . و قال تلميذه العلامة قاسم في تصحيح القدوري : إن رجوعه لم يثبت ، لما نقله الكافة من لدن الأئمة الثلاثة إلى اليوم من حكاية القولين ، و دعوى عمل عامة الصحابة بخلافه خلاف المنقول . قال في الاختيار : الشفق البياض ، و هو مذهب الصديق و معاذ بن جبل و عائشة - رضي الله عنهم -. قلت : و رواه عبد الرزاق عن أبي هريرة و عن عمر بن عبد العزيز ، و لم يرو البيهقي الشفق الأحمر إلا عن ابن عمر ، و تمامه فيه . و إذا تعارضت الأخبار و الآثار فلا يخرج وقت المغرب بالشك كما في الهداية و غيرها . قال العلامة قاسم : فثبت أن قول الإمام هو الأصح ، و مشى عليه في البحر مؤيدا له بما قدمناه عنه ، من أنه لا يعدل عن قول الإمام إلا لضرورة من ضعف دليل أو تعامل بخلافه كالمزارعة ، لكن تعامل الناس اليوم في عامة البلاد على قولهما ، و قد أيده في النهر تبعا للنقاية و الوقاية و الدرر و الإصلاح و درر البحار و الإمداد و المواهب و شرحه البرهان و غيرهم مصرحين بأن عليه الفتوى. و في السراج : قولهما أوسع و قوله أحوط ، و الله أعلم .(1/161)-