ترجمہ:السلام علیکم!میرے شوہر نے غصے میں کہا ہے کہ" گھر سے باہر گئی تو سمجھ لینا کے طلاق ہو گئی ہےتمہیں" پھر اسکے بعد کہا ہے" اگر میری اجازت کے بغیر گئی تو سمجھ لینا کے طلاق ہو گئی ہے"، اب بول رہے ہیں کہ" میری اجازت کہا تھا" میں نے، اور بول رہے ہیں کہ اجازت ہے چلی جاو، میں ابھی تک گئی نہیں ہوں،تو سلسلے میں کیا کروں؟
سائلہ کے شوہر نے جو الفاظ استعمال کئے ہیں" گھر سے باہر گئی تو سمجھ لینا کے طلاق ہو گئی ہے" اگر میری اجازت کے بغیر گئی تو سمجھ لینا کے طلاق ہو گئی ہے"ان سے تعلیقِ طلاق منعقد نہیں ہوئی،لہٰذا اگر سائلہ گھر سے باہر گئی تو اس پر کوئی طلاق واقع نہ ہو گی، تاہم آئندہ کے لئے شوہر کو اسطرح جملے استعمال کرنے میں بھی احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔
کما فی الہندیۃ:امرأة قالت لزوجها: " مرا طلاق ده " فقال الزوج: " داده كيرو كرده كير" (اي افرضي انه اعطي و فعل ) أو قال " داده باد وكرده بادان نوى " يقع ويكون رجعيا وإن لم ينو لايقع ولو قال: داده است أو كرده است يقع نوى أو لم ينو ولا يصدق في ترك النية قضاء ولو قال: داده إنكار أو كرده إنكار (اي ظني انه اعطي او ظني انه فعل) لا يقع وإن نوى".اھ(1/380)
و فی تنویر الابصار:ھو رفع القید فی الحال أو المآل بلفظ مخصوص اھ(3/227)
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0