عرض یہ ہے کہ نماز کی اقامت جب کہی جاتی ہے تو کچھ لوگ ’’اللہ اکبر‘‘ کے کلمے کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں اور کچھ لوگ ’’حی علی الصلاۃ‘‘ کے کلمے پر کھڑے ہوتے ہیں، جناب گذارش یہ ہے کہ قرآن وحدیث کے مطابق صحیح اور راجح طریقے کی طرف راہ نمائی فرمائیں۔جزاک اللہ
سوال میں مذکور دونوں صورتیں اختیا ر کرنا شرعاً جائز ہے ، البتہ رسول اللہ ﷺ کا عمل ، خلفاءِ راشدین اور جمہور صحابہ و تابعین کا تعامل اس پر رہا ہے کہ امام جب مسجد میں آ جائے تو اول اقامت ہی سے سب لوگ کھڑے ہو کر صفوف کی درستگی کر لیں اور اگر امام پہلے سے محراب کے قریب بیٹھا ہو اور لوگ صف بند ہو کر بیٹھے ہوں تو اس صورت میں ادب یہ ہے کہ ’’حی علی الفلاح‘‘پرکھڑے ہوں، جبکہ بغیر علم کے اس قسم کے مسائل میں الجھنے اور بحث ومباحثہ سے احتراز چاہیۓ۔
فی سنن أبي داود: عن سماك، قال: سمعت النعمان بن بشير، قال: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسوي صفوفنا إذا قمنا للصلاة فإذا استوينا كبر» اھ(1/ 178)۔
وفی سنن الترمذي: وروي عن عمر: أنه كان يوكل رجالا بإقامة الصفوف، ولا يكبر حتى يخبر أن الصفوف قد استوت اھ(1/ 302)۔
وفی فتح الباري لابن حجر: رواه عبد الرزاق عن بن جريج عن بن شهاب أن الناس كانوا ساعة يقول المؤذن الله أكبر يقومون إلى الصلاة فلا يأتي النبي صلى الله عليه وسلم مقامه حتى تعتدل الصفوف اھ (2/ 120)۔