ایک شخص زرگر( سنار) سے ایک تولہ سونا خریدے ادھار ،ایک لاکھ اسی ہزار 180000 کرنسی قیمت کے بدلے اور بازار مارکیٹ کا اس وقت موجودہ نرخ ایک لاکھ پچاس ہزار 150000 ہے ، تو کیا اس طرح معاملہ کرنا جائز ہے؟
واضح ہو کہ سونا ادھار پر خریدنے یا فروخت کرنے کیلئے بھی وہی شرائط ہیں جو دیگر اشیاء کیلئے ہیں ،مثلاً :
1: مجلسِ عقد ہی میں مکمل سونے پر قبضہ کرلیا جائے ۔
2: ادھار کی مدت متعین کر لی جائے ۔
3: ثمن (رقم) کی ادائیگی میں تاخیر ہوجانے کی صورت میں اضافی رقم کی شرط نہ لگائی جائے ۔
البتہ سونے کیلئے چوتھی شرط یہ بھی ہے کہ بازاری نرخ سے زیادہ پر ادھار فروخت کرنے میں چونکہ سود کا حیلہ ہے ،اسلئے ادھار لین دین کی صورت میں مارکیٹ ریٹ پر ہی سونے کی خرید و فروخت کرنا چاہیۓ ،لہذا صورتِ مسؤلہ میں سونار کا مارکیٹ ریٹ سے زیادہ پر سونا ادھار فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے ۔
کما قال اللہ تعالی : یا ایہا الذین آمنوا لاتاکلوا الربا اضعافا مضاعفۃ و اتقوا اللہ لعلکم تفلحون الایۃ( آل عمران: 130 )۔
و فی الدر المختار : و في الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ (5/165)۔
و فی الشامیۃ : سئل الحانوتي عن بيع الذهب بالفلوس نسيئة . فأجاب : بأنه يجوز إذا قبض أحد البدلين اھ (5/180)۔
و فی شرح المجلۃ : البیع مع تاجیل الثمن و تقسیطہ صحیح ،یلزم ان تکون المدۃ معلومۃ فی البیع بالتاجیل و التقسیط اھ (ص/50)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1