جناب سوال یہ ہے کہ ہمارا ایک گھر ہے (200)گز کا ، جو ہماری والدہ کے نام پر ہے، آج سے چھ سال پہلے میری شادی کے وقت میرے سسر نے اپنے پیسوں سے ہمیں ہمارے گھر کے اوپر 2 کمرے ،2 بیت الخلاء ،1 کچن اور 1 پانی کی ٹینکی تعمیر کروائی ،یہ کہہ کر کہ یہ میں اپنی بیٹی (میری بیوی) کو حصہ کی رقم سے دے رہا ہوں،جس پر میرے والدین راضی تھے، اب میرے والدین اس گھر کو فروخت کرنا چاہتے ہیں،اور میری بیوی کا مطالبہ ہے کہ جو پیسے اس کے والد نے اس کے رہنے کیلئے لگائے تھے ، ہمارے گھر کے اوپر وہ اس کا حق ہے ،اور وہ ان پیسوں کا تقاضہ کر رہی ہے ،تو اب یہ بتائیں کہ کیا میرے والدین وہ پیسے دینے کے پابند ہیں ؟اگر پابند ہیں تو کیا آج کے مارکیٹ ویلیو کے حساب سے دینگے یا چھ سال پہلے جو میرے سسر نے پیسے لگائے تھے ،وہ دینے کے پابند ہیں؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور مکان کی چھت پر تعمیرات چونکہ سائل کے سسر نے سائل کے گھر والوں کی اجازت سے اپنی بیٹی (سائل کی بیوی) کیلئے کی ہے، اس لئے یہ تعمیرات سائل کی بیوی کی ذاتی ملکیت ہیں ، چنانچہ آج کے حساب سے مارکیٹ ویلیو معلوم کی جائے ،اور مذکور تعمیرات کی مد میں جتنی رقم آئے،اتنی رقم سائل کی بیوی کا حق ہے ،لہٰذا وہ اپنے اس مطالبہ میں حق بجانب ہے،اور مکان فروخت ہونے کی صورت میں اتنی رقم سائل کی بیوی کو دینا لازم ہے ۔
کما فی الدر المختار :(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها اھ (5/691)۔
و فی درر الحکام : الاحتمال الثالث - إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك بإذن الشريك الآخر أي أن تكون التعميرات الواقعة للمعمر وملكا له فتكون التعميرات المذكورة ملكا للمعمر ويكون الشريك الآخر قد أعار حصته لشريكه. انظر المادة (831) وشرح المادة (906)واللہ اعلم