ناصر نے قاسم پر گاڑی نقدی میں فروخت کی,کیا ناصر وہی گاڑی قاسم سے قسطوں پر واپس خرید سکتا ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر قاسم یا اس کے وکیل نے مذکور گاڑی خرید کر اس پر قبضہ کر لیا ہو اور پہلے عقد میں دوبارہ خریداری کا معاملہ مشروط نہ ہو ،بلکہ پہلا عقد مطلقاً مکمل ہوچکا ہو اور اس کے بعد باہمی رضامندی سے قسطوں پر گاڑی خریدی جائے تو شرعاً یہ جائز اور درست ہے ۔
تاہم اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو سوال مکمل تفصیل کے ساتھ لکھ کر دوبارہ ارسال کریں ان شاء اللہ غور و فکر کے بعد حکمِ شرعی سے آگاہ کردیا جائے گا ۔
کما فی الدر المختار : ( الدال على التراضي) قيد به اقتداء بالآية و بيانا للبيع الشرعي ، و لذا لم يلزم بيع المكره و إن انعقد ، و لم ينعقد مع الهزل لعدم الرضا بحكمه معه . اھ(4/506)-
و فی فقہ البیوع : و كما يجوز ضرب الأجل لأداء الثّمن دفعةً واحدة ، كذلك يجوز أن يكون أداء الثّمن بأقساط ، بشرط أن تكون آجال الأقساط و مبالغها معينةً عند العقد . و قد يُسمّى "البيع بالتقسيط "، و هو نوع من البيع المؤجل، اھ(1/539)۔
و فیہ ایضاً : و من قبيل زيادة الشرط فى البيع ما يُسمّى صفقة فى صفقة " و هو أن يُشترط في العقد عقد آخر ، مثل أن يقول البائع : بعتك" دارى بكذا على أن تبيعنى سيارتك بكذا" و قد اتفق العلماء على كونه ممنوعاً شرعاً و الأصل في ذلك ما رُوي عن بن مسعود رضى الله تعالى عنه قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلّم عن صفقتين في صفقة واحدة " اھ(1/505)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1