جو شخص مسجد کے فنڈ میں خیانت کرتا ہو ، وہ مستقل اذان دے سکتا ہے ؟
واضح ہو کہ چوری کرنا گناہِ کبیرہ ہے اور مسجد کی رقم چوری کرنا اور بھی بڑا گناہ ہے اور ایسا شخص فاسق اور سخت گناہ گار ہے،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر شخص مذکور واقعۃً مسجد کی رقم چوری کرتا یا خرد برد سےکام لیتا ہو اور گواہوں سے اس کا جرم ثابت بھی ہوجائے ، تو ایسے شخص کو اذان کے منصب پر قائم رکھنا درست نہیں ،بلکہ کمیٹی اور اہلِ محلہ کو اسے فوراً معزول کردینا چاہیئے ، اور کسی دیندار باشرع شخص کو اذان دینے کیلئے مقرر کرنا چاہیئے ۔
کما فی الرد :وحاصله أنه يصح أذان الفاسق وإن لم يحصل به الإعلام: أي الاعتماد على قبول قوله في دخول الوقت، بخلاف الكافر وغير العاقل فلا يصح أصلا، فتسوية الشارح بين الكافر والفاسق غير مناسبة.ثم اعلم أنه ذكر في الحاوي القدسي من سنن المؤذن: كونه رجلا عاقلا، صالحا، عالما بالسنن والأوقات، مواظبا عليه، محتسبا، ثقة متطهرا مستقبلا، وذكر نحوه في الإمداد؛ ومقتضاه أن العقل غير شرط لصحة الأذان فيصح أذان غير العاقل كالمجنون والمعتوه والسكران، كما يصح أذان الفاسق والمرأة والجنب، ويدل عليه ما في البدائع من أنه يكره أذان المجنون والسكران وأن الأحب إعادته في ظاهر الروايةاھ(394/1)
وکما فی حاشیة الطحطاوی: قوله: "وأذان فاسق" هو الخارج عن أمر الشرع بارتكاب كبيرة كذا في الحموي قوله: "لأن خبره لا يقبل الخ" فلم يوجد الإعلام المقصود الكامل قوله اھ(199)۔والله اعلم