مسجد کا متولی امامِ مسجد کو مسجد کے فنڈ سے عمرہ پر بھیج سکتا ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہوکہ مسجد کے لئے چندہ کے طور پر جمع شدہ رقم مسجد کی ملکیت ہوتی ہے،اسے اس کی تعمیر اور مصالح پر خرچ کرنا لازم وضروری ہے،جبکہ امامِ مسجد کو عمرہ کرانا مصالحِ مسجد میں سے نہیں ہے، لہذا مسجد کے چندہ کی رقم سے مذکور متولّی کا امامِ مسجد کو عمرہ کے لئے بھیجنا تو شرعاً درست نہیں، البتہ اگر متولّیِ مسجد چند اربابِ خیر سے اس مد میں الگ سے تعاون لے کر یا چندہ دہندگان سے اس بات کی اجازت لے کر امامِ مسجد کو عمرہ پر بھیجے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے اور باعثِ اجرو وثواب بھی ہے۔
کمافی الھندیة: مسجد له مستغلات وأوقاف أراد المتولي أن يشتري من غلة الوقف للمسجد دهنا أو حصيرا أو حشيشا أو آجرا أو جصا لفرش المسجد أو حصى قالوا: إن وسع الواقف ذلك للقيم وقال: تفعل ما ترى من مصلحة المسجد كان له أن يشتري للمسجد ما شاء وإن لم يوسع ولكنه وقف لبناء المسجد وعمارة المسجد ليس للقيم أن يشتري ما ذكرنا اھ(4/461)۔
وفیه أیضاً:وإذا أراد أن يصرف شيئا من ذلك إلى إمام المسجد أو إلى مؤذن المسجد فليس له ذلك، إلا إن كان الواقف شرط ذلك في الوقف، كذا في الذخيرة اھ(2/463)۔