السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ !
ایک وقف شدہ قبرستان ہے جس کا راستہ نہیں ہے اور جس بندے کی آگے زمین ہے وہ کسی صورت میں بھی راستہ دینے پہ راضی نہیں ہو رہا، کافی کہنے سننے کے بعد وہ اس بات پر راضی ہوا کہ مجھے قبرستان سے زمین دو اور بدلے میں راستہ لے لو ، کیا یہ صورت جائز ہے ؟یہ بات ذہن نشین رہے کہ اس کے علاوہ وہ کسی صورت میں راستہ دینے پر راضی نہیں اورجن لوگوں کے اعزہ و اقرباء کی وہاں پر قبریں ہیں ان کے لئے بہت پریشانی بنی ہوئی ہے ۔
صورتِ مسؤلہ میں سائل اور اہل محلہ کو چاہیے کہ کہ اولاً تو مذکور شخص کو ترغیب وغیرہ دے کر اس بات پر راضی کیا جائے کہ وہ اپنی زمین سے گزرنے کی اجازت دے،لیکن اگر ہر ممکن کوشش کے باوجود وہ اس بات پر راضی نہ ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں قاضی (جج) کے ذریعے وقف کردہ زمین کے کسی زائد فارغ جگہ کو شخص مذکور کے ہاتھ فروخت کرکے اس سے قبرستان کے آنے جانے کیلئے زمیں خرید لی جائے ۔
کما فی تنویر الابصار مع الدر المختار:(و) جاز (شرط الاستبدال به) أرضا أخرى حينئذ (أو) شرط (بيعه ويشتري بثمنه أرضا أخرى إذا شاء(وأما) الاستبدال ولو للمساكين (بدون الشرط فلا يملكه إلا القاضي) درر ،وشرط فی البحر خروجہ عن الانتفاع بالکلیۃ وکون البدل عقاراً والمستبدل قاضی الجنۃ المفسر بذی العلم والعمل۔
وفی الشامیۃ: قولہ وجاز شرط الاستبدال:اعلم ان الاستبدال علی ثلاثۃ وجوہ۔۔۔الیٰ قولہ ، والثانی ان لایشترط سواء شرط عدمہ او سکت لکن صار بحیث لاینتفع بہ بالکلیۃ بان لایحصل منہ شیئ اصلا،او لایفی بمؤنتہ فھو ایضا جائز علی الاصح اذا کان باذن القاضی ورایہ المصلحۃ فیہ اھ ( 4/384)۔