السلام علیکم !
والد صاحب مرحوم نے ہم سب بھائیوں کو مکان بنانے کے لئے جگہ دے دی تھی، اور ان کی زندگی میں ہی سب نے مکان بنا لیے تھے، اب بھائی، بہنوں میں باقی زمین کی تقسیم کرنی ہے ، کیا مکانوں والی جگہ بھی وراثت تصور ہو گی اور اسے بھی تقسیم کیا جائے گا یا وہ اس سے مستثنی ہے؟
اگر سائل کے والد مرحوم نے اپنی صحت والی زندگی میں سائل سمیت اپنے تمام بیٹوں کو گھر بنانے کیلئے مذکور جگہ باقاعدہ مالکانہ حقوق کے ساتھ تقسیم کرکے دے دی تھی ،تو ایسی صورت میں ہر بیٹا اپنے اپنے حصے کا مالک بن چکا تھا،لہٰذا اب والد کی وفات کےبعد مذکور جگہ بقیہ ترکہ کی طرح میراث میں تقسیم نہیں کی جائے گی اور نہ ہی بہنوں کی طرف سے اس کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز ہوگا۔
جبکہ مذکور زمین کے علاوہ باقی تمام ترکہ تمام ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کیا جائے گا ۔
کما فی الدر المختار : (و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) و الأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها ، اھ(5/691)۔
و فی شرح المجلۃ : لا یجوز لاحد اںن یتصر ف فی ملک غیرہ بلا اذنہ او وکالۃ منہ اھ (1/41)/مادۃ /94)۔