کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری مسجد محلہ نواباں میں محمد شاہد نامی مؤذن جو کہ اذان دیتے آرہے ہیں ،جن کے بارے میں عام طور پر لوگوں کا کہنا ہے کہ اذان درست نہیں ہے ،ہمارے مؤذن صاحب اذان میں درج ذیل غلطیاں کرتے ہیں (1) اللہ اکبر کی راء کو شد کے ساتھ پرھتے ہیں (2) اشھد ان الا الہ الااللہ کو اشھد ان لا الا خ پڑھتے ہیں (3) اشھد ان محمد رسول اللہ کو اشھاد الف کے ساتھ اور ان کو انا الف کے ساتھ پڑھتے ہیں ،اور محمد رسول اللہ کو محمڈ ٹ رسول اللہ پڑھتے ہیں ،اسی طرح حیّ علی الصلواۃ کو اور حی علی الفلاح کو حی علی الشلاۃ پڑھتے ہیں ،اور حی علی الفلاح کو حی علی الفلاح فاء پر شد کے ساتھ پڑھتے ہیں ،لاالہ پر سانس بند ہوجاتا ہے اور پھر الااللہ پڑھتے ہیں ،اور اسی الا اللہ کو بھی الااللہ بغیر لام کے شد کے پڑھتے ہیں ،ایسی اذان کے بارے میں ہماری بہتر رہنمائی فرمائیں ۔
واضح ہو کہ مؤذن کیلئے متقی ہونے اور نمازوں کے اوقات سے باخبر ہو نے کے ساتھ ساتھ اذان کے الفاظ کو صحیح ادا کرنے پر قادر ہونا بھی ضروری ہے ،لہذا سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ،اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو اور نہ ہی یہ سننے والے کے اشتباہ اور غلط فہمی پر مبنی ہو ، تو مذکور مؤذن صاحب موصوف کا اذان کے الفاظ کی ادائیگی درست نہیں ہے ، اسے چاہیئے کہ وہ اذان کے الفاظ کو صحیح ادا کرنے کی کوشش کرے ،لیکن اگر باوجود کوشش کے وہ الفاظ صحیح ادا کرنے پر قادر نہ ہو ،تو پھر اسے چاہیئے کہ اذان دینے کے بجائے ،از خود یا مسجد انتظامیہ کے تعاون سے کسی ایسے شخص کو اذان دینے کیلئے منتخب کرے جو اذان کے الفاظ صحیح ادا کرنے پر قادر ہو ۔
فی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع :(ومنها) - أن يكون تقيا لقول النبي - صلى الله عليه وسلم -: «الإمام ضامن، والمؤذن مؤتمن» ، والأمانة لا يؤديها إلا التقي.(1/150)
وفی حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح :"ويكره التلحين" وهو التطريب والخطأ في الإعراب وأما تحسين الصوت بدونه فهو مطلوب (الی قولہ)"وهو التطريب" أي التغني به بحيث يؤدي إلى تغيير كلمات الأذان وكيفياتها بالحركات والسكنات ونقص بعض حروفها أو زيادة فيها فلا يحل فيه ولا في قراءة القرآن ولا يحل سماعه لأن فيه تشبها بفعل الفسقة في حال فسقهم فإنهم يترنمون اهـ من. الشرح ببعض تغيير قوله: "والخطأ في الإعراب" ويقال له لحن ويطلق اللحن على الفطنة والفهم لما لا يتفطن له غيره (199)
وفی الشامیۃ :وحاصلها أن السنة أن يسكن الراء من " الله أكبر " الأول أو يصلها ب " الله أكبر " الثانية، فإن سكنها كفى وإن وصلها نوى السكون فحرك الراء بالفتحة، فإن ضمها خالف السنة؛(1/386