السلام علیکم ورحمۃ اللہ ! محترم مفتی صاحب! سوال یہ ہے کہ ہمارے علاقے(دیر) میں ایک شخص نے اپنی مملوکہ زمین جنازگاہ کے لئے وقف کی تھی،جس پرکچھ عرصہ بعد تعمیر ہوئی، اوردوسری منزل پر اہل محلہ والوں نے مسجد بنانے کا عزم کیا ہے،لیکن اس موقوفہ زمین کے ساتھ ایک حکومتی و سرکاری اسکول متصل ہے ،جو اس بات پر مصر ہے کہ ،اس موقوفہ زمین پر ایک کمرہ جتنی جگہ ہمیں دی جائے، تاکہ ہم اسےاپنے استعمال میں لائیں، آیا ایسا کرنا شرعی رو سے صحیح ہے یا نہیں ؟قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں ۔
نوٹ :واقف کی طرف سے اجازت ہے کہ جناز گاہ پر تعمیر یا مسجد وغیرہ بنائی جائے ،جبکہ مذکور زمین میں اسکول والوں کا کوئی استحقاق نہیں ہے ،وہ صرف زمین یا پہلی منزل کی جو چھت ڈالی ہے ،اس کے اتصال کی وجہ سے کمرہ مانگ رہے ہیں ۔۔
واضح ہو کہ جو زمین ایک مرتبہ جب کسی کام کیلئے وقف کر دی جائے،اور وقف تام ہوجائے، اور واقف نے وقف کرتے وقت موقوفہ زمین کی جہت تبدیل کرنے کی شرط نہ لگائی ہو، تو ایسی صورت میں وہ زمین تا قیامت اسی مصرف میں استعمال کرنا لازم ہوتا ہے، کسی اور مصرف میں اسے استعمال کرنا جائز نہیں۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقف نے مذکور زمین گاؤں والوں کے جنازگاہ کیلئے وقف کرکے ان کے حوالہ کردی تھی،اور وقف کرتے وقت اس نے مذکور موقوفہ زمین کی جہت تبدیل کرنے کی شرط وغیرہ نہ لگائی ہو، تو ایسی صورت میں اگر چہ واقف اب راضی ہو،تب بھی مذکور موقوفہ زمین کو مسجد میں تبدیل کرنا شرعاًجائز نہیں، بلکہ اسے بدستور جنازگاہ کیلئے استعمال کیا جائے گا۔
جبکہ اسکول والوں کا موقوفہ زمین میں بغیر کسی استحقاق کے محض زمین کے اتصال کی وجہ سے اس میں کمرہ کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں، اور نہ ہی متولیین کو ان کا مطالبہ ماننا درست ہے ،لہٰذا اس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الدر المختار :(وعندهما هو حبسها على) حكم (ملك الله تعالى وصرف منفعتها على من أحب) ولو غنيا فيلزم، فلا يجوز له إبطاله ولا يورث عنه وعليه الفتوى ابن الكمال وابن الشحنة اھ (4/ 338)۔
و فیہ ایضا: (وأما) الاستبدال ولو للمساكين آل (بدون الشرط فلا يملكه إلا القاضي) درر اھ (4/386)
و فی رد المحتار: إن شرائط الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع وهو مالك، فله أن يجعل ماله حيث شاء ما لم يكن معصية وله أن يخص صنفا من الفقراء، وكذا سيأتي في فروع الفصل الأول أن قولهم شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة، ووجوب العمل به قلت: لكن لا يخفى أن هذا إذا علم أن الواقف نفسه شرط ذلك حقيقة اھ(4/ 366)۔
وفی البحر الرائق :أن الواقف إذا جعل لنفسه التبديل والتغيير والإخراج والإدخال والزيادة والنقصان ثم فسر التبديل باستبدال الوقف هل يكون صحيحا وهل تكون له ولاية الاستبدال والشيخ الإمام الوالد سقى الله عهده صوب الرضوان أفتى بصحة ذلك وأنه يكون له ولاية الاستبدال اھ(5 /242)