کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ 2015 میں میری شادی ہوئی ،شادی کے بعد تقریباً پانچ(5) سال تک ہمارے تعلقات اچھے رہے ،اور میرے دو بچے بھی ہیں ،اس کے بعد میری بیوی کا رویہ میرے ساتھ اچھا نہیں رہا ،اور تقریباً آٹھ(8) ماہ تک مجھے اپنے قریب نہیں آنے دیا ،یہ کہہ کر کہ ڈاکٹروں نے ہمبستری سے منع کیا ہے اس کے بعد میں ان کو کسی لیڈی ڈاکٹر کے پاس لے گیا کہ اس کو ایسی کیا بیماری ہے ،جس کی وجہ سے آپ نے تعلقات (ہمبستری) سے منع کیا ہے ،تو اس نے کہا کہ ہم نے اس کو منع نہیں کیا ، اس کے بعد میں نے اپنی بیوی کو ہمبستری کیلئے بلایا تو اس نے کہا کہ میں بیمار ہوں ،تو اس وقت میں نےیہ جملہ بولا کہ " جب تم ٹھیک ہوجاؤ چاہے دس(10) دن لگیں یا بیس(20) دن تو ہمبستری کیلئے میرے پا س آجانا ،اگر نہ آئی تو تم مجھ پر طلاق ہو ،یہ جملہ دو (2) مرتبہ بولا،اب تقریباً دو(2) سال ہوچکے ہیں،وہ میرے پا س نہیں آئی اور ہمارے درمیان کوئی تعلق نہیں ہوا ،اب آیا کہ میری بیوی پر طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں ؟ حالانکہ اس کو کوئی بھی ایسی بیماری نہیں ہے جو ہمبستری میں رکاوٹ ہو ، قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔
سائل کا بیوی کو ہمبستری کیلئے بلانے اور اس کی طرف سے بیماری کا عذر کر کے نہ آنے کے بعد سائل نے جو جملہ "جب تم ٹھیک ہوجاؤ چاہے دس دن لگیں یا بیس دن تو ہمبستری کیلئے آجانا ،اگر نہ آئی تو تم مجھ پر طلاق ہو" استعمال کیا ہے یہ یمین فور کی صورت ہے ،چنانچہ اس وقت اگر سائل کی بیوی کو کوئی ایسی بیماری در پیش نہ ہو جو ہمبستری کرنے میں رکاوٹ ہو (جیسا کہ سوال میں مذکور ہے) اس کے باوجود بھی وہ اس وقت سائل کے پاس ہمبستری کیلئے نہ آئی ہو تو ایسی صورت میں سائل کی بیوی پر دو(2) رجعی طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،چنانچہ اس کے بعد اگر سائل نے عدت کے دوران زبانی یا شہوت کے ساتھ بوس وکنار کرکے عملی طور پر رجوع کرلیا ہو تو دونوں کا نکاح حسبِ سابق برقرار ہے ،تاہم آئندہ کیلئے سائل کے پاس فقط ایک طلاق کا اختیار ہوگا ،جبکہ دورانِ عدت رجوع نہ ہوا ہو تو مکرر سوال کرکے اس کے متعلق حکمِ شرعی معلوم کیا جاسکتا ہے ۔
کما فی الدر المختار : وفي طلاق الأشباه إن للتراخي إلا بقرينة الفور و منه طلب جماعها فأبت فقال : إن لم تدخلي معي البيت فدخلت بعد سكون شهوته حنث الخ
وفی الشامیة : و معنى كون إن للتراخي أنها تكون للتراخي و غيره عند عدم قرينة الفور ، و المراد فعل الشرط الذي دخلت عليه ، و ما رتب عليه فإذا قال لها إن خرجت فكذا و خرجت فورا أو بعد يوم مثلا حنث إلا لقرينة الفور ، فيتقيد به كما مر و منه ما مثل به و كذا ما في الخانية إن دخلت دارك فلم أجلس فهو على الفور أي الجلوس على فور الدخول اھ (3/ 763)۔
وفی البدائع الصنائع : (و أما) الموقت دلالة فهو المسمى يمين الفور (الیٰ قوله) و هو أن يكون اليمين مطلقا عن الوقت نصا ، و دلالة الحال تدل على تقييد الشرط بالفور بأن خرج جوابا لكلام أو بناء على أمر (الیٰ قولہ) و كذا إذا قامت امرأته لتخرج من الدار فقال لها إن خرجت فأنت طالق فقعدت ثم خرجت بعد ذلك لا يحنث استحسانا لأن دلالة الحال تدل على التقييد بتلك الخرجة كأنه قال إن خرجت هذه الخرجة فأنت طالق اھ (3/ 13)۔
وفی الھندیة : سكران ضرب امرأته فخرجت من داره فقال : إن لم تعودي إلي فأنت طالق و كان ذلك عند العصر فعادت إليه عند العشاء قالوا : يحنث في يمينه لأن يمينه تقع على الفور و إن قال : لم أنو الفور لا يصدق قضاء اھ (1/ 449)۔
وفی الفتاویٰ التاتارخانیة : اذا اراد الرجل ان یجامع امراته فقال لھا "ان لم تدخلی معی فی البیت فانت طالق" فدخلت بعد ما سکنت شھوته وقع الطلاق علیھا ، و ان دخلت قبل ذلک لم تطلق اھ (5/ 65)۔
و فیھا ایضاً : و لو قال لھا وھی صحیحة ان صححت فانت طالق ، وقع الطلاق حین سکت یعنی فی الحال اھ (3/ 555)۔
و فیھا ایضاً : نوع آخر فی الشرط یکون علی الفور او علی التراخی عن محمد فیمن قال لغیرہ : ان ضربتنی و لم اضربک فامراتہ طالق ، فھذا علی الفور ، قال (و لم) یکون علی وجھین : علی قبل و بعد ، فاذا کان علی بعد فھو علی الفور ، و اذا کان علی قبل فھو علی ذالک ، و کذا ان نوی بعد فھو علی ما نوی و معناہ ، ان ضربتنی ابتداء و لم اضربک بعد ذالک فکذا فھو علی ما نوی و یکون علی الفور ، و الحاصل ان ھذہ الکلمۃ و ھی ( لم ) قد تقع علی الابد کقولہ (ان اتیتنی و لم آتک ، ان زرتنی و لم ازرک ) فھو علی الابد ، و قد تقع علی الفور ، و کذالک قد تقع ھذہ الکلمۃ علی قبل ، وقد تقع علی بعد ، و المعتبر فی حملہ علی احدھما معا فی کلام الناس او یوجد منطق یستدل بہ علیہ و ما کان مشتبھا نحو قولہ (ان کلمتک و لم تکلمنی ، فھذا علی سبیل قبل و بعد ، و ان نوی شیئا فھو علی ما نوی ، و ان لم تکن لہ نیۃ فایھما فعل فقد بر فی یمینہ ، و لو قال (ان کلمتنی و لم اجبک) فھو علی المستقبل و الفور اھ (3/ 558)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0