ماں کے نام پراپرٹی ہے ، وہ کیسے تقسیم کریں ؟ چار بیٹے ہیں اور ایک بیٹی ، ماں حیات ہے ۔
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے ، وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کرسکتا ہے ، اس کے ذمہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان مال و جائیداد تقسیم کرنا لازم نہیں ، اور نہ ہی کسی بیٹے یا بیٹی کو اس میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہے ، لہٰذا سائل کی والدہ پر بھی اپنی پراپرٹی اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا لازم نہیں ، نہ ہی ان کے کسی بیٹے یا بیٹی کو اس جائیداد میں مطالبہ کا حق حاصل ہے ، البتہ اگر سائل کی والدہ اپنی مرضی سے اپنی اولاد کے درمیان اپنا مال و جائیداد تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً ایسا کرنا بھی جائز اور درست ہے ، مگر یہ تقسیم ترکہ نہیں بلکہ " ہبہ اور گفٹ " ہے جس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی بقیہ زندگی کے لئے محتاط اندازے کے مطابق جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد ( بیٹوں اور بیٹی) میں برابر تقسیم کرکے ہر فرد کو اس کے حصہ پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاً بھی درست ہوجائے ، محض کاغذات میں نام کردینا یا زبانی کلامی دینا کافی نہیں ، پھر بہتر اور افضل یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب کو برابر اور یکساں رکھے ،کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے کہ سب ہی اس کی اولاد ہیں ، تاہم اگر کسی بیٹے ، بیٹی کی خدمت گزاری ، دینداری وغیرہ کی بناء پر اسے دوسری اولاد کے مقابلے میں زیادہ دینا چاہے تو شرعاً اس کی بھی اجازت ہے ، مگر بلا وجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے کہ یہ گناہ ہے ۔
و فی البحرالرائق : یکرہ تفضیل بعض الاولاد علی البعض فی الھبۃ حالۃ الصحۃ ( الی قولہ ) و فی الخلاصۃ المختار التسویۃ بین الذکر و الانثٰی فی الھبۃ الخ ( کتاب الھبۃ ج 7 ص 288 ط : ماجدیہ)
و فی الھندیۃ : و لو وھب رجل شیئا لاولادہ فی الصحۃ و اراد تفضیل البعض علی البعض(الی قولہ)لا باس بہ اذا لم یقصد بہ الاضرار سوی بینھم یعطی الابنۃ مثل ما یعطی للابن و علیہ الفتوٰی الخ (کتاب الھبۃ ج 4 ص 391 ط : ماجدیہ ) ۔
و فی رد المحتار : و لو وھب شیئا لاولادہ فی الصحۃ و اراد تفضیل البعض علی البعض روی عن ابی حنیفۃ لا باس بہ اذا کان التفضیل لزیادۃ فٖضل الدین الخ( کتاب الھبۃ ج 4 ص444 ط : سعید )۔ و فی الدرالمختار : ( و تتم الھبۃ بالقبض ) الکامل ( و لو وھب شاغلا الملک الواھب لا مشغولا بہ ) الخ( کتاب الھبۃ ج 5 ص 690 ط : سعید ) ۔
و فی خلاصۃ الفتاوٰی:و لو اعطی لبعض ولدہ شیئا دون البعض لزیادۃ رشدہ لا باس بہ ، و ان کانا سواء لاینبغی ان یفضل الخ ( ج 4 ص 400 ط : رشیدیہ) ۔
و فی الھندیۃ:و منھا ( ای من شرائط الھبۃ ) ان یکون الموھوب مقبوضاً حتی لا یثبت الملک للموھوب لہ قبل القبض الخ (ج 4 ص 374 ماجدیہ) ۔
و فی بدائع الصنائع : و ینبغی للرجل ان یعدل بین اولادہ فی النحلی لقولہ سبحانہ و تعالٰی انّ اللہ یامر بالعدل و الاحسان الخ ( کتاب الھبۃ ، ج 6 ص 127 ط : سعید ) ۔