السلام علیکم !
جناب عالی ! میں سولر سسٹم لگانا چاہتا ہوں ، اس کے لئے میں نے ایک بینک سے رابطہ کیا جس نے مجھ سے کچھ کاغذات مانگے جو میں نے پورے کیے مثلاً 1 ۔ اسی بینک میں اکاؤنٹ ، 2۔ national tax number ( filer ) ، 3۔ میرے کاروبار کی تفصیل ، 4۔ تین مختلف سولر کمپنیوں سے quotation (خرچے کی تفصیل ) یہ سارے کاغذات میں نے پورے کردیے ، اب بینک والے ان تینوں quatations میں سے ایک منتخب کریں گے جس کمپنی کا ریٹ کم ہو ، اور اس سولر سسٹم پر جتنا خرچہ آئیگا بینک وہ رقم کمپنی کو ادا کرے گا ( یعنی بینک مجھے نہیں دے گی بلکہ وہ رقم کمپنی کو دے گا) اب بینک سولر سسٹم پر 15 لاکھ خرچ کرے گا اس سے اوپر جو بھی خرچ آئے گا وہ میں ادا کروں گا ، اور بینک کو میں 5 سالوں میں 16 لاکھ 80 ہزار ادا کروں گا ، 28 ہزار ہر مہینے میں ، میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ سود کے زمرے میں آتا ہے ؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق مذکور بینک انتظامیہ سولر کمپنی سے سولر پینل خرید کر از خود یا اپنے کسی وکیل کے ذریعے اس طور پر اپنے قبضے میں لائے کہ اس کا رسک اور ضمان بینک کی طرف منتقل ہوجائے ، اس کے بعد وہ نئے مستقل عقد کے ساتھ وہ سولر پینل ادھار قسطوں پر سائل کو فروخت کردے اور قیمت کی ادائیگی کے لئے مدّت بھی طے کرلی جائے اور کسی قسط کی تاخیر پر کوئی جرمانہ بھی عائد نہ کیا جائے تو ایسی صورت میں شرعاً ایسا کرنا جائز اور درست ہوگا ، ورنہ بینک کے ساتھ ہونے والے عقد کی مکمل تفصیل اور ایگریمنٹ کی کاپی ارسال کرکے مکرر حکم شرعی معلوم کیا جاسکتا ہے۔
کما فی الدرالمختار : ( وصح بثمن حال ) و هو الأصل ( و مؤجل إلى معلوم ) لئلا يفضي إلى النزاع الخ۔ ( کتاب البیوع ، ج۴ ، ص۵۳۱، ط۔سعید )
و فی المبسوط للسرخسی : و إذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا و بالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا ( الی قولہ ) و هذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما و لم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز ؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد الخ۔ ( کتاب البیوع ، باب البیوع الفاسدۃ ، ج۱۳ ، ص۸ ، ط۔ دارالمعرفۃ )۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1