ہم 5 بہن بھائی ہیں : 2 بھائی اور 3 بہنیں ، میرے والد صاحب کی ملکیت میں کچھ اراضی ہے اور ایک چلتا چلاتا کاروبار ہے ، تمام کاروبار میرے چچا اور والد صاحب نے بنایا ہے ، قریب 10 سال پہلے میرے دونوں بھائیوں نے والد صاحب کی فیکٹری جانا شروع کیا اور کام کے عوض تنخواہ لینا شروع کی ، قیمتی آراضی والد صاحب پہلے ہی اپنے بیٹوں کے نام کر چکے ہیں ، اب میرے والد صاحب کا خیال ہے کہ وہ اپنے مال و دولت کو اپنی زندگی میں ہی تقسیم کریں ، اس مد میں میری رہنمائی فرمائیں،کہ میں اپنا مکمل حق لینا چاہتی ہوں ، اللہ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں میرا انکے مال و جائیداد میں کتنا حصہ بنتا ہے ، اور جو جائیداد والد صاحب نے پہلے ہی میرے بھائیوں کے نام کی ہے،اس میں سے میرا کوئی حق بنتا ہے اور اگر میں اپنے حصے کے کاروبار کا شیئر لینا چاہوں تو اس کی کیا صورت ہو سکتی ہے،کیا اس کاروبار میں میرا حق بنتا ہے۔نوٹ : اس بات کو مد نظر رکھ کر راہنمائی فرمائیں کہ والد صاحب سب کچھ زندگی میں اپنی مرضی کی تقسیم کر کے بیٹیوں سے معافی نامہ لینے کا اظہار کر چکے ہیں۔
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاء ہونے سے قبل اپنے مال وجائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کر سکتا ہے ،اس کے ذمہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان مال وجائیداد تقسیم کرنالازم نہیں اور نہ کسی بیٹے یا بیٹی کو اس میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہے، لہذا سائلہ کے والد پر بھی اپنی جائیداد اولاد کے درمیان تقسیم کرنا شرعاً لازم نہیں ہے، جبکہ سائلہ کے والد نے اپنے بیٹوں کو ان کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے جو کچھ جائیدادیں باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ ( ھبہ ) کرکے دیدی ہے ، وہ انکی ملکیت بن چکی ہے ، اب اس میں کسی اور کاحق نہیں ، تاہم اب سائل کے والد کو چاہئیے ،جوکچھ جائیدادیں اپنے بیٹوں کو دیدی ہیں ، اس کے بقدر جائیداد یا رقم بیٹیوں کو بھی دیدے ،تاکہ اولاد کے درمیان برابری اور بیٹیوں کی دلجوئی بھی ہوسکے ،بلاوجہ تمام جائیداد بیٹوں کو دیکر بیٹیوں سےمعافی نامہ لکھواکر انہیں محروم کرنا مناسب نہیں ،جس سے والد کو احتراز چاہئیے ،البتہ سائلہ سمیت کسی بھی بیٹی کو اپنے والد سے حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل نہیں ۔
کما فی الدر المختار : ( وتتم ) الھبۃ ( بالقبض ) الکامل ( ولو الموھوب شاغلا لملک الواھب لامشغولا بہ ) والاصل ان الموھوب ان مشغولا بملک الواھب منع تمامھا و ان شاغلا لا الخ ( ج 5 صـ 690 – 691 کتاب الھبۃ ط : ایچ ایم سعید ) ۔
و فی بدائع الصنائع : وینبغی للرجل ان یعدل بین اولادہ فی النحلی لقولہ سبحانہ و تعالیٰ " ان اللہ یامر بالعدل و الاحسان " ( الی قولہ ) و لان فی التسویۃ تالیف القلوب ، و تفضیل یورث الوحشۃ بینھم فکانت التسویۃ بینھم اولیٰ و لو نحل بعضا و حرم بعضا جاز من طریق الحکم لانہ تصرف فی خالص ملکہ لاحق لاحد فیہ الخ ( ج 6 صـ 127 کتاب الھبۃ فصل و اما الشرائط فانواع ط : ایچ ایم سعید ) ۔
و فی الھندیۃ : وفیھا ان یکون الموھوب مقبوضا حتی لا یثبت الملک للمو ھوب لہ قبل القبض الخ ( ج 4 صـ 374 کتاب الھبۃ باب الاول فی تفسیر الھبۃ ط : ماجدیۃ ) ۔
و فیھا ایضا : رجل وھب فی صحتہ کل المال للولد جاز فی القضاء ویکون آثما فیماصنع الخ ( ج 4 صـ 391 کتاب الھبۃ الباب السادس فی الھبۃ للصغیر ط : ماجدیۃ ) ۔
و فی خلاصۃ الفتاوی : رجل لہ ابن و بنت اراد ان یھب لھما شیا فالافضل ان یجعل للذکر مثل حظ الانثیین عند محمدؒ و عند ابی یوسفؒ بینھما سواء ھو المختار لورود الآثار ولو وھب جمیع مالہ لابنہ جاز فی القضاء و ھو آثم الخ ( ج 4 صـ 400 کتاب الھبۃ الجنس الثانی ط : رشیدیۃ ) ۔