السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میں نے حال ہی میں کراچی سے امپورٹڈ ہربل میڈیسن/ سپلیمنٹ خریدا ہے، جو کہ امریکہ میں بنتاہے۔ یہ خاص طور پر بالوں کے گرنے (گنج پن) کو کنٹرول کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ دوا خود حلال ہے، کیونکہ یہ جڑی بوٹیوں سے حاصل کی گئی ہے، لیکن کیپسول جیلیٹن سے بنا ہے۔ امریکہ میں قائم کمپنی سے رابطہ کرنے پر، انہوں نے تصدیق کی کہ کیپسول میں استعمال ہونے والا جیلیٹن 'بووائن' (گائے، بھینس) کے ذریعہ سے حاصل کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ 'بوائن' کا ذریعہ حلال ہے یا کوشر، اس لیے میں اس دوا کو لینے سے ہچکچا رہا ہوں۔
تاہم، میں نے سنا ہے کہ اگر دوا (پاؤڈر کی شکل میں ہے) خود حلال ہے، تو اسے براہ راست جیلیٹن کیپسول کھول کر کھایا جا سکتا ہے۔ ایسا کرنے سے، دوا کیپسول کے خول سے الگ ہو جاتی ہے، اور اسے کیپسول کے بغیر لیا یا کھایا جا سکتا ہے، کیپسول خالی کرنے کے بعد ضائع کیا جا سکتا ہے۔ میں نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ اس جڑی بوٹی کو کیپسول کے بغیر براہ راست محفوظ طریقے سے کھایا جا سکتا ہے۔
میرا استفسار یہ ہے کہ اگر حلال دوائی جیلاٹن (ایک حرام مادہ) سے بنے کیپسول کے ساتھ طویل مدت تک رابطے میں رہتی ہے یا اس میں محفوظ رہتی ہے، تو کیا اس کا کھانا بغیر کوئی شرعی شرط لگائے حلال اور جائز سمجھا جائے گا؟
میں اس معاملے پر آپ کی رہنمائی کا مشکور رہوں گا۔
واضح ہو کہ کیپسول میں استعمال ہونے والا جیلیٹین اگر خنزیر کے بجائے دیگر جانوروں سے حاصل کیا گیا ہوتو چونکہ یہ جیلیٹین جانوروں کی کھال اور ہڈیوں سے حاصل کیا جاتا ہے،اور غیر شرعی طریقے(کوشر) پر ذبح کیے گئے جانوروں کی کھال اگرچہ دباغت کے بعد،جبکہ ہڈیاں بغیر کسی اضافی عمل کے بھی پاک شمار ہوتی ہیں،لیکن اس کے باوجود اس کا کھانےپینے کے لیے استعمال کرنا مفتیٰ بہ قول کے مطابق شرعاًجائز نہیں،لہذا اگر جیلیٹین کے متعلق یقینی طور پر پاک اور حلال ہونا معلوم نہ ہو تو ایسا جیلیٹین مِلا کیپسول کھانے سے اجتناب کرنا چاہیئے،اور اگرکیپسول کےبغیر دوا استعمال کی جاسکتی ہو تو ایسا ہی کرنا چاہیئے، جبکہ کیپسول کا خول اگر پاک ہوتو فقط اس سے مس ہونے کی وجہ سےاس میں موجود دوا حرام نہ ہوگی۔
کما فی فقہ البیوع للعثمانی: وبما أنّ عظم حیوان غیر مذکی طاھر، وأنّ جلدہ یطھر بالدباغ، فإنّ الجیلاتین المتخذ منھما طاھر، ویجوز استعمالہ فی غیر الأکل باتفاق الحنفیۃ. أمّا استعمالہ فی الأکل، فالصحیح المفتیٰ بہ عند الحنفیۃ أنّہ لایجوز، ولکن ھناک قول عند الحنفیۃ والشافعیۃ فی جواز أکلہ. ویسوغ العمل بہ للتداوی بالکیبسولات المتخذۃ من الجیلاتین، بشرط أن لا تکون متخذۃ من جلد الخنزیر أو عظمہ. أمّا فی غیر التداوی، فینبغی الإجتناب من أکلہ، ما لم تثبت استحالتھا. أمّا البیع والشراء، فیجوز فی غیر المتخذ من الخنزیر، لأنّہ طاھر حسبما ذکرناہ، والإنتفاع بہ ممکن بطریقٍ مشروع اھ (1/ 307)