ہم تین بھائی اور ایک بہن ہیں ، ہمارے ماں باپ زندہ ہیں ، وہ اپنی زندگی میں بچوں کو جائیداد کا حصہ دینا چاہتے ہیں ، بیٹی کا حصہ کس حساب سے بنے گا شریعت کی روشنی میں ؟ جواب کا منتظر۔ جزاک اللہ
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاء ہونے سے قبل اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہو تا ہے ، وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کر سکتا ہے ، اس کے ذمہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے در میان مال و جائیداد تقسیم کر نالازم نہیں اور نہ ہی کسی بیٹے یا بیٹی کو اس میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہے ، البتہ اگر وہ شخص اپنی مرضی سے اپنی اولاد کے درمیان اپنامال و جائیداد تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً ایسا کرنا بھی جائز اور درست ہے، مگر یہ تقسیم ترکہ نہیں بلکہ ہبہ اور گفٹ ہے ، جس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ وہ شخص اپنی اور اپنی بیوی کی بقیہ زندگی کے لئے محتاط اندازے کے مطابق جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد ( بیٹوں اور بیٹیوں ) میں برابر تقسیم کر کے ہر فرد کو اسکے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے تا کہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعا ًبھی درست ہو جائے، محض کاغذات میں نام کر دینا یا زبانی کلامی ہبہ کرنا کافی نہیں، پھر بہتر اور افضل یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب کو برابر اور یکساں رکھے، کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے کہ سب ہی اس کی اولاد ہیں، تاہم اگر کسی بیٹے، بیٹی کی خدمت گزاری، دینداری و غیرہ کی بناء پر اسے دوسری اولاد کے مقابلے میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو شرعاً اسکی بھی اجازت ہے ، مگر بلا وجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے کہ یہ گناہ ہے۔ (ماخوذ از تبویب)
كما في بدائع الصنائع : و ينبغى للرجل ان يعدل بين اولاده في النحلى لقوله سبحانه و تعالى ان الله يامر بالعدل والاحسان الخ ( كتاب الهبة ، ج 6، ص 127 . ط : سعيد ) -
و في البحر الرائق : يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة (الى قوله ) و في الخلاصة المختار التسوية بين الذكر والانثى فى الهبة الخ ( كتاب الهبة ج 7، ص 288 . ط : ماجديه ) -
و في الهندية : ولو وهب رجل شيئاً لاولاده فى الصحة و اراد تفضيل البعض على البعض ( إلى قوله) لاباس به اذا لم يقصد به الاضرار سوى بينهم يعطى الابنة مثل ما يعطى للابن وعليه الفتوى الخ (كتاب الهبة ، ج 4، ص 391 ، ط : ماجديه)۔