السلام علیکم !
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ ایک بیوہ خاتون کی ملکیت میں انکا رہائشی گھر اور ایک دکان اور ایک چھوٹا گھر شامل ہے ( جو کہ کرائے پر دیے گئے ہیں ) اور ان کے ورثاء میں ان کا ایک بیٹا اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں ، ان کے ساتھ بیٹا اور ایک بیٹی جو کہ بیوہ ہے , رہتے ہیں معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا وہ اپنی مرضی اور خوشی سے اپنی ملکیت کی دکان اپنی زندگی میں اپنے بیٹے اور اپنی بیوہ بیٹی کو دے سکتی ہے ؟ اور کیا اس کے لئے باقی تمام ورثاء کی رضامندی لینی ضروری ہے یا نہیں ؟ براہِ کرم ! قرآن و سنت سے اصلاح فرمادیں ۔
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل اپنے مال و جائداد کا تنہا مالک ہوتا ہے وہ اس میں جس طرح چاہے تصرّف کرسکتا ہے ، اس کے ذمّہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان مال و جائداد تقسیم کرنا لازم نہیں اور نہ ہی کسی بیٹے یا بیٹی کو اس میں حصّہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہے ، البتہ اگر سائلہ اپنی مرضی و خوشی سے اپنی جائداد میں سے مذکور دوکان اپنے ایک بیٹے اور بیوہ بیٹی کو ان کی ضرورت اور محتاجگی کو مدنظر رکھتے ہوئے دینا چاہے ، تو اس کا بھی انہیں اختیار ہے ، دیگر اولاد سے رضامندی حاصل کرنا ضروری نہیں ، جبکہ اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ مذکور بیٹے و بیٹی میں سے ہر فرد کو مذکور دوکان میں سے اس کے حصّے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے تاکہ یہ ہبہ و گفٹ شرعاً بھی درست ہوجائے ، محض کاغذات میں نام کردینا یا زبانی کلامی دینا کافی نہیں ، مگر بلا وجہ کسی کو اپنی جائداد سے محروم کرنا جائز نہیں بلکہ گناہ کا باعث ہے ، جس سے احتراز چاہیئے ۔
کما فی الدر المختار: (و تتم) الھبۃ بالقبض الکامل (و لو الموھوب شاغلاً لملک الواھب لا مشغولاً بہ) (کتاب الھبۃ ، ج 5 ، ص 690 ، ط : سعید) ۔
و فی بدائع الصنائع: و ینبغی للرجل ان یعدل بین اولادہ فی النحلی لقولہ سبحانہ و تعالٰی ان اللہ یامر بالعدل و الاحسان (الی قولہ) و لان فی التسویۃ تالیف القلوب و یفضل یورث الوحشۃ بینھم فکانت التسویۃ بینھم اولیٰ و لو نحل بعضا و حرم بعضا جاز من طریق الحکم لانہ تصرف فی خالص ملکہ لا حق لاحد فیہ الخ ( کتاب الھبۃ ، ج 6 ، ص 127 ، ط : سعید) ۔
و فی خلاصۃ الفتاویٰ: رجل لہ ابن و بنت اراد ان یھب لھما شیئاً فالافضل ان یجعل للذکر مثل حظ الانثیین عند محمد رحمہ اللہ و عند ابی یوسف رحمہ اللہ بینھما سواء ھو المختار لورود الآثار و لو وھب جمیع مالہ لابنہ جاز فی القضاء و ھو آثم الخ ( ج4 صـ 400 کتاب الھبۃ ، الجنس الثانی ط : رشیدیہ )۔