کیا زندگی میں جائیداد کی تقسیم بیوی تین بیٹے اور دو بیٹیوں میں شرعی وراثت کی طرح ہو سکتی ہے؟نیز والد کی وفات کے بعد تقسیمِ جائیداد کے وقت بہن نے بخوشی اپنا حصہ نہیں لیا , کیا ایک بھائی اب اپنے حصہ سے اسکو دے سکتا ہے ؟بہن فوت ہو چکی ہے-
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاء ہونے سے قبل اپنی جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ جس طرح چاہے اس میں جائز تصرفا ت کر سکتا ہے،اس پر اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اولاد کے درمیان تقسیم کرنا شرعاً لازم نہیں اور نہ ہی اولاد کو مطالبہ کاحق حاصل ہے،البتہ اگر والد بخوشی اپنی جائیداد تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً یہ ہبہ کہلائیگا اور ہبہ میں بہتر یہ ہے کہ تمام اولاد میں برابری کی جائے،جبکہ والد کے انتقال کی صورت میں اگر کوئی بیٹی اپنا حصہ نہیں لیتی یا انکار کردیتی ہے تو اس کی وجہ سے اس کا حق ختم نہ ہوگا،بلکہ بدستور وہ شرعی حصہ کی حقدار ہوگی اور ورثاء پر اس کا حصہ اس کی زندگی میں اس کو اور وفات کی صورت میں اس کے اپنے ورثاء کو دینا شرعاً لازم ہے۔
کما فی ردالمحتار: فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى اھ (4/444)۔
وفی تکملة ردالمحتار:الارث جبری لا یسقط بالاسقاط اھ(7/505)۔
وفی البحرالرائق: (قوله فروع) يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله لواحد جاز قضاء وهو آثم كذا في المحيط وفي فتاوى قاضي خان رجل أمر شريكه بأن يدفع إلى ولده مالا فامتنع الشريك عن الأداء كان للابن أن يخاصمه إن لم يكن على وجه الهبة اھ (7/288)۔