طلاق معلقہ

شوہر کا تعلیقِ طلاق سے رجوع کرنا

فتوی نمبر :
70326
| تاریخ :
2024-01-15
معاملات / احکام طلاق / طلاق معلقہ

شوہر کا تعلیقِ طلاق سے رجوع کرنا

کیا فرماتے ہیں علماءِ دین مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میری بھانجی اور ان کے شوہر کے درمیان طلاق سے متعلق کچھ حل طلب مسائل ہیں ، شریعت مطہرہ کی روشنی میں ان کا حل بیان فرمائیں ، میں اپنی بھانجی کا بیان جو ان ہی کے قلم سے تحریر کردہ ہے ، آپ حضرات کی خدمت میں پیش کرتا ہوں ، اس کو سامنے رکھتے ہوئے حکمِ شرعی سے آگاہ فرمائیں ۔
"اگست 2015ء میں جب میں کراچی سے جا کر آبائی علاقہ میں والدین کے گھر تھی تو شوہر نے میسج میں لفظِ طلاق بھیجا، پھر دوسرا میسج لفظِ طلاق کا بھیجا، ستمبر 2015ء میں لفظِ رجوع دو بار بھیجا ، جس کے بعد میں واپس ان کے گھر کراچی چلی گئی، اور اگست 2022ء تک مسلسل رہی، اور میکے نہیں گئی، 2019ء میں جب میں کراچی ہی میں تھی بولا کہ ” اگر اپنی امی کے گھر ، ماموں کو ملی تو تمہیں طلاق “اس کے بعد والد صاحب شدید علیل تھے، جس کی بناء پر مجھے ایبٹ آباد جانا پڑا ، اور پھر اکتوبر 2022ء کو وہ بھی میرے والد صاحب کی عیادت کو آئے اور تمام غلطیوں کی معافی مانگی، اور کہا کہ ” میں اپنے تمام الفاظ واپس لیتا ہوں ، تم امی کے گھر ماموں کو بلا سکتی ہو ، ماموں سے مل سکتی ہو ، ا پنے سسرال ماموں کو بلا سکتی ہو ، انکی فیملی کو بھی ، میں الفاظ واپس لیتا ہوں ، اور وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی تکلیف نہیں دوں گا -
فروری 2023 ء کو میرے والد صاحب کے انتقال اور تدفین کے بعد ماموں سے تین بار امی کے گھر ملاقات ہوئی اور اب گذشتہ ایک سال ( اگست 2022 ء)سے میں اپنے والدین کے گھر پر ہوں ۔براہِ کرم شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں ان تمام تفصیلات کو سامنے رکھتے ہوئے بتائیں کہ دو طلاقیں ہوجانے اور پھر رجوع ہوجانے کے بعد مجھ پر تیسری طلاق واقع ہوئی کہ نہیں ؟
واضح ہو کہ میرے شوہر نے کراچی میں دو مفتیانِ کرام سے اس مسئلہ پر رائے لی ہے ، انکے مطابق والد کی وفات پر گھر وراثت کے تحت بیوہ اور تمام اولاد کی ملکیت ہے، صرف امی کی نہیں ، اس لئے طلاق واقع نہیں ہوئی، اور پھر چونکہ شوہر نے مشروط الفاظ واپس لے لیے ہیں اور طلاق کا کوئی ارادہ نہیں رہا اس لئے نکاح ختم نہیں ہوا “۔
نوٹ: سائل کی بھانجی سےان کے تحریر کردہ استفتاء کے مضمون سے متعلق وضاحت کے لئے چند سوالات کیے گئے جو سوال و جواب کی صورت میں ذیل میں درج کیے جاتے ہیں ۔
سوال۔1 :شوہر نے میسج میں طلاق کے کیا الفاظ لکھے تھے ؟
جواب ۔ اس میسج میں صرف لفظِ ”طلاق“ لکھا تھا، اس کے آگے پیچھے کوئی اور لفظ نہیں لکھا تھا ۔
سوال ۔2: شوہر نے یہ میسج آپ کی طرف سے کسی ایسے میسج کے جواب میں لکھا تھا کہ جس میں آپ نے ان سے طلاق یا علیحدگی کا مطالبہ کیا ہو؟
جواب ۔ جی نہیں ! جب میں کراچی سے والدین کے گھر آگئی تو چند دنوں کے بعد یہ میسج آیا تھا اور اس دوران کوئی رابطہ یا کسی قسم کی کوئی بات ہی نہیں ہوئی تھی، البتہ آنے سے چند دن قبل جب میں شوہر کے گھر پر تھی تو ماموں ( جن سے شوہر کی دوستی تھی اور اسی دوستی کی بنیاد پر میری شادی ہوئی تھی ) سے ان کو کوئی کام کرانا تھا ، جو ان کی خواہش کے مطابق نہ ہوسکا تھا، اس بناء پر مجھے ایک بار یوں بولا تھا کہ ” میں نے سوچا ہے کہ تمہیں چھوڑ ہی دوں ، جب ماموں سے میرا کوئی کام نہیں کروا سکتی “۔
سوال ۔3: کیا اس میسج کے بعد آپ نے شوہر سے اس سلسلے میں کوئی رابطہ کیا ؟ اور پوچھا کہ یہ آپ نے بھیجا ہے؟ اور کیوں بھیجا ہے ؟ کیا آپ نے مجھے طلاق دے دی ہے ؟
جواب ۔ جی ہاں! میں نے رابطہ کیا اور اس مضمون کا میسج کیا کہ ”آپ ایسا کیوں کررہے ہیں ؟ آپ مجھے طلاق نہ دیں، میں نے آپ کے ساتھ ہی رہنا ہے، اور اس طرح لکھ کر بھیجنے سے بھی طلاق ہوجاتی ہے وغیرہ وغیرہ “ اس طرح کی باتیں میں نے لکھی تھیں، اس پر اس کا پہلا اور ابتدائی جواب یہ تھا کہ یہ میں نے تمہارے ماموں کو تکلیف دینے اور ٹینشن دینے کے لئے میسج کیا ہے ۔
سوال۔4: طلاق والے میسج کے کتنے دنوں یا کتنے عرصے بعد رجوع کا میسج آیا، اور اس کے الفاظ کیا تھے ؟
جواب ۔ تقریباً تین چار دنوں بعد رجوع کا میسج آیا، اور اس میں بھی صرف لفظِ رجوع دو بار لکھا تھا، اس کے آگے پیچھے کچھ بھی نہیں لکھا تھا جیسے ” رجوع ، رجوع “ پھر جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ ابتدائی اور پہلا جواب یہ تھا کہ طلاق کا میسج تیرے ماموں کو تکلیف پہنچانے اور ٹینشن دینے کے لئے کیا ہے، اس وقت وہ اپنے غصہ میں تھے، بعد میں، میں نے ان سے رجوع کرنے کے لئے کہا کہ آپ رجوع کریں تو اس وقت وہ نارمل ہوگئے تھے تو ان کا جواب ہوتا تھا کہ کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی اور میری نیت طلاق دینے کی نہیں تھی وہ تو صرف دھمکانے اور ٹینشن دینے کے لئے طلاق کے میسج کیے تھے، اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی، لیکن میرے بار بار کے اصرار پر بالآخر اس نے ” رجوع ، رجوع “ کا میسج کیا اس کے جواب میں، میں نے شکریہ کا میسج سینڈ کیا تو جواب میں شوہر نے میسج کیا کہ ” جیسے آپ چاہ رہی تھی میں نے کردیا “ اس کے چند دن بعد کال پر بھی بات ہوئی تواس وقت بھی اس نے کہا کہ آپ کے کہنے پر میں نے رجوع کیا ورنہ طلاق والی کوئی بات نہیں تھی، واضح رہے کہ یہ تمام باتیں ( طلاق، رجوع کے میسج ، رابطے، نیز رجوع سے متعلق شوہر سے کال پر بات ) دورانِ عدت ( تین ماہواریاں مکمل ہونے سے قبل ) ہی ہوگئی تھیں، اس موقع پر چھ سات ماہ والدین کے گھر رہی اور پھر اپنے شوہر کے پاس کراچی چلی گئی، اس کے بعد 2019 ء میں باتوں باتوں کے دوران بولا کہ ” اگر اپنی امی کے گھر ماموں کو ملی تو تمہیں طلاق “ چنانچہ بعد میں جب انہوں نے اپنی اس بات سے رجوع کرلیا اور امی کے گھر ماموں سے ملنے پر پابندی ختم کردی تب میں والد مرحوم کے انتقال کے بعد اپنے ماموں سے امی کے گھر میں ملی اور ملاقات کی ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی دروغ گوئی اور غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو بایں طور کہ سائلہ کے شوہر نے واقعۃً سائلہ کو دو مرتبہ میسج پر طلاق کا لفظ لکھ کربھیجنے کے بعد میسج پر ہی رجوع کے الفاظ لکھ کر بھیج دیے تھے(جیساکہ سوال میں ذکر کردہ تفصیل سے معلوم ہو رہا ہے) تو اس سے سائلہ پر دو طلاقیں واقع ہو چکی تھیں اور دورانِ عدت رجوع کرنے سے رجوع بھی درست ہو چکا تھا، البتہ آئندہ کیلئے شوہر کے پاس فقط ایک طلاق کا اختیار تھا۔نیزطلاق معلق کرنے کے بعد شوہر کواس سے رجوع کرنے کا شرعاً اختیار نہیں، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر کاطلاق معلق کرنے کے بعد اپنی بات واپس لینے سے تعلیق ختم نہیں ہوئی، بلکہ بدستور برقرارتھی۔
جبکہ عام طور پر عرف میں ”امی کا گھر“ بول کر اس کا رہائشی گھر اور جائے سکونت مراد لی جاتی ہے نہ کہ والدہ کا ملکیتی گھر، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر نے جب مذکور الفاظ ’’اگر اپنی امی کے گھر ماموں کو ملی تو تمہیں طلاق“ کہے تو اس سے سائلہ پر طلاق معلق ہو چکی تھی اور جب سائلہ نے اپنی امی کے گھر ماموں سے پہلی دفعہ ملاقات کر لی تو سائلہ پر بقیہ ایک معلق طلاق واقع ہو کر مجموعی طور پر تینوں طلاقوں کے ذریعے حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہو سکتا ،اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفتاویٰ الھندية : و إذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا۔اھ (1/ 420)۔
و فی الدر المختار : (حلف لا يدخل دار فلان يراد به نسبة السكنى إليه) عرفا و لو تبعا أو بإعارة باعتبار عموم المجاز۔اھ (3/ 760)۔
و فی رد المحتار : (قوله لتركه الإضافة) أي المعنوية فإنها الشرط و الخطاب من الإضافة المعنوية ، و كذا الإشارة نحو هذه طالق ، و كذا نحو امرأتي طالق و زينب طالق. اھ۔(الی قوله) و لا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه ؛ لما في البحر لو قال : طالق فقيل له من عنيت ؟ فقال امرأتي طلقت امرأته . (الی قوله) لو قال : امرأة طالق أو قال طلقت امرأة ثلاثا و قال لم أعن امرأتي يصدق اهـ و يفهم منه أنه لو لم يقل ذلك تطلق امرأته ، لأن العادة أن من له امرأة إنما يحلف بطلاقها لا بطلاق غيرها ، فقوله إني حلفت بالطلاق ينصرف إليها ما لم يرد غيرها لأنه يحتمله كلامه۔اھ (3/248)۔
و فی موسوعة القواعد الفقهية : المعروف بالعرف كالمشروط بالنّص . و في لفظ : المعروف عرفاً كالمشروط شرطاً . أو المعروف بين النّاس . و في لفظ : المعلوم بالعرف كالمعلوم بالنّصّ أو بالشّرط . و في لفظ : المعروف كالمشروط . أو المعروف بالعادة۔اھ (10/ 749۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اسامہ ارشد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70326کی تصدیق کریں
0     1034
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • طلاق معلق سے بچنے کے طریقے کا سوال اور اس کا جواب

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • شادی سے قبل طلاق معلق کرنے کے بعد طلاق کب واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 1
  • اگر بیوی خط پڑہے تو اسکو طلاق

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • "اگر میں نے فلاں عورت سے شادی کی تو تین طلاق"کے الفاظ کہنے کاکیا حکم ہوگا؟

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • ’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • طلاق ثلاثہ کوماں ،باپ،بہن،بھائیوں سے بات چیت پرمعلق کرنا

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 1
  • ’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • طلاق معلق کرکے تعلیق سے رجوع کرنا

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 1
  • اگر تو گھر سے نکلی تو تو مجھ طلاق , کہنےکا حکم

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • بیوی کو ـ تو ں میرے گھر رہی تو تجھے تین طلاق کہنے سے طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • تین معلق طلاقوں کے وقوع سے بچنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 1
  • رخصتی سے قبل معلق طلاق کی ایک صورت

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • "اگر میری اجازت کے بغیر گھر سے باہر گئی تو طلاق سمجھو "کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • "اگر ماں باپ کے گھر گئی تو میری طرف سے فارغ ہو"سے طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • سمجھ لو میں نے تمہیں اپنے نکاح سے نکال دیاہے کہنےکا حکم

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • ہمبستری پر معلق تین طلاقوں کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • معلق طلاق کی ایک صورت اور اس میں طلاق سے بچنے کی تدبیر

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 1
  • جن پیسوں پر طلاق معلق کی اسکے علاوہ دوسرے پیسے دکھانے پر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • معلق بالشرط طلاق کی ایک خاص صورت کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • موبائل میں گفتگو کرنے اور ڈرامہ دیکھنے پر طلاق معلق کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • "فارغ سمجھو " کے الفاظ سے طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • کل ظہر کے بعد عصر تک آجاؤ ورنہ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
  • طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرکے اس سے رجوع کرنا

    یونیکوڈ   طلاق معلقہ 0
Related Topics متعلقه موضوعات