کیافرماتے ہیں علماء و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے میں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ" اگر تم اپنےباپ کے گھر چلی گئی توتم پرطلاق ہوگی " اسکے بعدبیوی اپنے باپ کے گھر چلی گئی، گھرجانے کے بعد زوجین کااس پر اختلاف ہوگیا ،شوہر کہتاہے کہ میں نے ایک طلاق دی تھی ، اور بیوی کہتی ہے کہ نہیں ، آپ نے مجھے تین طلاقیں دیدی تھیں اب سوال یہ ہے کہ میرے اور بیوی میں سے کس کاقول معتبرہے ؟ نیز یہ واضح رہے کہ طلاق دیتے وقت میاں بیوی کے علاوہ کوئی دوسراموجود نہیں تھا جو اس معاملے پر گواہ بن سکے ۔
مفتی غیب نہیں جانتا وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے ، سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سوال کرنے والے پر عائد ہوتی ہے ، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو اور مذکور الفاظ (اگر تم اپنے باپ کی گھر چلی گئی تو تم پر طلاق ہوگی ) کہنے کے بعد عورت اپنے والد کے گھر جا چکی ہو اور اب مذکور شخص ایک مرتبہ کہنے کا دعویدار ہو، اور تین مرتبہ کہنے سے انکاری ہو، جبکہ بیوی مذکور الفاظ کے تین مرتبہ سننے کا دعوی کررہی ہو ، اور بیوی کے پاس اپنے اس موقف کوثابت کرنے کے لئے شرعی شہادت بھی موجود نہیں ہے ، جب ایسی صورت حال ہوجائے کہ بیوی اپنے کانوں سے الفاظ طلاق تین مرتبہ سننا بیان کر رہی ہو ، اور اپنے بیان پر حلف اٹھانے اور قبر وآخرت کی جواب دہی کے لئے بھی تیار ہو ، اور شوہر تین طلاق سے انکاری ہونے کے ساتھ وہ تین طلاق نہ دینے پر حلف اٹھانے اور قبر وآخرت کی جواب دہی کے لئے بھی تیار ہو ، تو ایسی صورت میں عورت پر لازم ہے کہ "المرأۃ کا لقاضی" کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے آپ کو مطلقۂ ثلاثہ سمجھے اور شوہر کو اپنے اوپر قطعاً قدرت نہ دے ، تاہم یہ معاملہ اگر قاضی "جج" کی عدالت میں چلا جائے اور قاضی طلاق کے متعلق گواہ نہ ہونے کی وجہ سے شوہر کی قسم پر اس کے حق میں فیصلہ دے کر بیوی کو اس کے ساتھ روانہ کر دے ، تو ایسی صورت میں بیوی اگر چہ گناہ گار نہ ہوگی ، مگر پھر بھی اسے چاہیئے کہ طلاق بالمال یا خلع کے ذریعہ اپنے شوہر سے خلاصی حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے ۔
کمافی ردالمحتار: تحت(قوله دين فقط) أي ولا يصدق قضاء لأنه يظن(الی قولہ) والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ.(ج3 ص 351 باب الصریح ط سعید ) ۔
فی البحرالرائق: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه اهـ. ولا فرق في البائن بين الواحدة، والثلاث اهـ.(ج 3 ص 277 باب الصریح ط سعید ) ۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0