السلام علیکم ! والد اور والدہ کی زندگی میں وراثت کی تقسیم ، پانچ ( 5 ) بیٹے ہیں اور چار ( 4 ) بیٹیاں ہیں ، سب شادی شدہ ہیں ، کاروبار اور کچھ جائیدادیں بیٹوں نے بنائی تھیں جنہیں چھ برابر حصوں میں ( باپ اوربیٹوں ) کے درمیان تقسیم کیا گیا تھا ، جبکہ گھر کی ( چالیس مرلہ ( 40 ) مرلہ زمین جس کی ایک کروڑ چالیس لاکھ مالیت ہے ) اور اس کی تعمیرات جو کہ والد نے بنائی تھیں ، اس میں سے دس ( 10 ) مرلہ تین ( 3 ) بیٹوں کو دی گئی ، دو بیٹوں کے لئے تیس ( 30 ) مرلہ گھر بچا کر رکھا گیا ہے جبکہ والدین ان دو بیٹوں کے ساتھ ہی رہتے ہیں ، اور ہر بیٹی کو ایک لاکھ روپے دیئے گئے ، گھر میں اٹھارہ ( 18 ) سے بیس ( 20 ) لاکھ کا استعمال شدہ سامان والدہ کو دیا گیا ، اس بارے میں ہماری رہنمائی فرمائیں ، شریعت کی روشنی میں شکریہ ۔
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاء ہونے سے قبل اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کر سکتا ہے ، اس کے ذمہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان مال و جائیداد تقسیم کرنا لازم نہیں اور نہ ہی کسی بیٹے یا بیٹی کو اس میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہے ، لہذا سائل کے والد پر بھی اپنی جائیداد اولاد کے درمیان تقسیم کرنا شرعاً لازم نہیں ، جبکہ سائل کے والد نے اپنے تین بیٹوں کو جو دس ( 10 ) مرلہ زمین اور اپنی بیوی ( سائل کی والدہ ) کو اٹھارہ سے بیس لاکھ کا جو استعمال شدہ سامان باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ ( ہبہ ) کرکے دیدیا ہے ، تو وہ ان کی ملکیت بن چکا ہے ، اب اس میں کسی اور کا حق نہیں ، تاہم اب سائل کے والد کو چاہیئے جو کچھ جائیداد ( 10 مرلہ ) اپنے تین بیٹوں کو دے دی ہے ، اس کے بقدر جائیداد یا رقم باقی دو بیٹوں اور چار بیٹیوں کو بھی دیدے ، تاکہ اولاد کے درمیان برابری اور بیٹیوں کی دلجوئی بھی ہو سکے ، جبکہ والد کاتمام جائیداد فقط بیٹوں میں تقسیم کر کے بیٹیوں کو صرف ایک ایک لاکھ روپے دینا مناسب نہیں ، جس سے والد کو احتراز چاہیئے ۔ (ماخوذ از تبویب )۔
کما فی الدر المختار: (و تتم) الھبۃ بالقبض الکامل (و لو الموھوب شاغلاً لملک الواھب لا مشغولاً بہ) (کتاب الھبۃ ، ج 5 ، ص 690 ، ط : سعید) ۔
و فی بدائع الصنائع: و ینبغی للرجل ان یعدل بین اولادہ فی النحلی لقولہ سبحانہ و تعالٰی ان اللہ یامر بالعدل و الاحسان (الی قولہ) و لان فی التسویۃ تالیف القلوب و التفضیل یورث الوحشۃ بینھم فکانت التسویۃ بینھم اولیٰ و لو نحل بعضا و حرم بعضا جاز من طریق الحکم لانہ تصرف فی خالص ملکہ لا حق لاحد فیہ الخ ( کتاب الھبۃ ، ج 6 ، ص 127 ، ط : سعید) ۔
و فی خلاصۃ الفتاویٰ: رجل لہ ابن و بنت اراد ان یھب لھما شیئاً فالافضل ان یجعل للذکر مثل حظ الانثیین عند محمد رحمہ اللہ و عند ابی یوسف رحمہ اللہ بینھما سواء ھو المختار لورود الآثار و لو وھب جمیع مالہ لابنہ جاز فی القضاء و ھو آثم الخ (کتاب الھبۃ ، ج 4 ، ص 400 ، ط: رشیدیہ) ۔