جناب مفتی صاحب السلام علیکم ! میرا ایک مکان ہے جس کی قیمت 50 لاکھ ہے ، گھریلو نا اتفاقی کی وجہ سے میں اسے بیچ کر سب کا حصہ اپنی زندگی ہی میں دینا چاہتا ہوں ، میری 2 بیٹیاں اور 1 بیٹا ہے میری بیوی سے 9 سال پہلے طلاق ہوئی تھی ، لیکن اس وقت زبانی فتوی کے حساب سے مفتی صاحب نے کہا تھا کہ طلاق نہیں ہوئی ہے ، لیکن اب میری بیوی نے تھانے جاکر کہا ہے کہ مجھے ہوگئی ہے اس کی شرعی طور پر ہماری رہنمائی فرمائیں اور کیا اس کا حصہ بھی بنے گا ؟
گھر لیتے وقت میرے بیٹے نے ڈھائی لاکھ دیے تھے اُدھار , کہ جب بھی گھر بکے گا اس میں سے اسے دیے جائیں گے اور 50 ہزار بچیوں کی شادی کے وقت اُدھار لیے تھے وہ بھی اسی گھر سے ادا کیے جائیں گے ، اُدھار کے علاوہ باقی رقم کی تقسیم کی کیا ترتیب ہوگی اور کس کس کا کتنا حصہ ہوگا ؟ رہنمائی فرمائیں
نوٹ : جس وقت گھر خریدا تھا اس وقت گھر کی قیمت 14 لاکھ 25 ہزار تھی اگر اب وہ percentageکے حساب سے مانگے تو کیا معاملہ ہوگا ؟ اگر میں اپنی حیات میں حصہ کروں تو لڑکے اور لڑکی کا کیا حصہ ہوگا اور بیوی کا کیا شرعی حصہ ہوگا ؟
نوٹ : گھر خریدتے وقت بیٹے نے جو ڈھائی لاکھ روپے دیے تھے اس وقت یہ کہا تھا کہ جب بھی مکان فروخت ہو تو مجھے میرے ڈھائی لاکھ روپے واپس کرنا ، اب وہ پرسنٹیج کے حساب سے اپنے پیسوں کا مطالبہ کررہا ہے، شرعی طور پر اس کا کیا حکم ہے ؟ پولیس والے کہہ رہے ہیں کہ آپ بیٹے کو 15 لاکھ روپے دیدیں ہم معاملہ ختم کروادیتے ہیں ،تو اگر میں اس کو 15 لاکھ روپے دیتا ہوں تو کیا اس کا شرعی حصہ مکمل ہوجائے گا یا حصہ الگ سے دینا پڑےگا ؟
وضاحت : سائل نے بیوی کے حوالے سے اس بات کی وضاحت کی کہ اس کو طلاق دیکر میرا معاملہ اس کے ساتھ ختم ہوچکا تھا ۔
صورتِ مسؤلہ میں جب سائل کے بیٹے نے مذکور رقم دیتے وقت قرض کی صراحت کی تھی تو اس صورت میں سائل پر صرف ڈھائی لاکھ روپے کی واپسی لازم ہے،لہذا بیٹے یا پولیس والوں کا سائل سے پرسنٹیج یا زائد رقم دینے کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل اپنے تمام ذاتی مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے ، وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کرسکتا ہے ، اس کے ذمہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان مال و جائیداد تقسیم کرنا لازم نہیں ، اور نہ ہی کسی بیٹے یا بیٹی کو اس میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہے ، لہٰذا سائل پر بھی اپنے مال و جائیداد کو اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا لازم نہیں ، لہذا سائل کے کسی بیٹے یا بیٹی کو اس جائیداد میں مطالبہ کا حق حاصل نہیں ہے ، البتہ اگر سائل اپنی مرضی سے اپنی اولاد کے درمیان اپنا مال و جائیداد تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً ایسا کرنا بھی جائز اور درست ہے ، مگر یہ تقسیم ترکہ نہیں بلکہ " ہبہ اور گفٹ " ہے جس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ سائل اپنی بقیہ زندگی کے لئے محتاط اندازے کے مطابق جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد ( بیٹوں اور بیٹیوں ) میں برابر تقسیم کرکے ہر فرد کو اس کے حصہ پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاً بھی درست ہوجائے ، محض کاغذات میں نام کردینا یا زبانی کلامی دینا کافی نہیں ، پھر بہتر اور افضل یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب کو برابر اور یکساں رکھے ،کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے کہ سب ہی اس کی اولاد ہیں ، تاہم اگر کسی بیٹے ، بیٹی کی خدمت گزاری ، دینداری وغیرہ کی بناء پر اسے دوسری اولاد کے مقابلے میں زیادہ دینا چاہے تو شرعاً اس کی بھی اجازت ہے ، مگر بلا وجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے کہ یہ گناہ ہے ۔
کما فی رد المحتارتحت (قولہ فلا عبرۃ بغلائہ ورخصہ) (الی قولہ) وان استقرض دانق فلوس أو نصف درھم فلوس ثم رخصت أو غلت لم یکن علیہ الا مثل عدد الذی أخذہ الخ (ج5 ص162 فصل فی القرض ط:سعید)۔
وفیہ أیضاً: (کل قرض جر نفعاً حرام) ای اذا کان مشروطا کما علم مما نقلہ عن البحر الخ (ج5 ص166 فصل فی القرض مطلب کل قرض جر نفعا حرام ط: سعید)۔
و فی البحرالرائق : یکرہ تفضیل بعض الاولاد علی البعض فی الھبۃ حالۃ الصحۃ ( الی قولہ ) و فی الخلاصۃ المختار التسویۃ بین الذکر و الانثٰی فی الھبۃ الخ ( کتاب الھبۃ ج 7 ص 288 ط : ماجدیہ )
و فی الھندیۃ : و لو وھب رجل شیئا لاولادہ فی الصحۃ و اراد تفضیل البعض علی البعض ( الی قولہ ) لا باس بہ اذا لم یقصد بہ الاضرار سوی بینھم یعطی الابنۃ مثل ما یعطی للابن و علیہ الفتوٰی الخ ( کتاب الھبۃ ج 4 ص 391 ط : ماجدیہ ) ۔
وفی رد المحتار : و لو وھب شیئا لاولادہ فی الصحۃ و اراد تفضیل البعض علی البعض روی عن ابی حنیفۃ لا باس بہ اذا کان التفضیل لزیادۃ فٖضل الدین ( کتاب الھبۃ ج 4 ص444 ط : سعید)۔
وفی الدرالمختار : ( و تتم الھبۃ بالقبض ) الکامل ( و لو وھب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ ) ( کتاب الھبۃ ج 5 ص 690 ط : سعید)۔
وفی خلاصۃ الفتاوٰی:و لو اعطی لبعض ولدہ شیئا دون البعض لزیادۃ رشدہ لا باس بہ ، و ان کانوا سواء لاینبغی ان یفضل الخ ( ج 4 ص 400 ) ۔
و فی الھندیۃ:و منھا ( ای من شرائط الھبۃ ) ان یکون الموھوب مقبوضاً حتی لا یثبت الملک للموھوب لہ قبل القبض الخ (ج 4 ص 374 ) ۔
و فی بدائع الصنائع : و ینبغی للرجل ان یعدل بین اولادہ فی النحلی لقولہ سبحانہ و تعالٰی انّ اللہ یامر بالعدل و الاحسان الخ ( کتاب الھبۃ ، ج 6 ص 127 ط : سعید ) ۔ و اللہ تعالٰی اعلم بالصواب