کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں،کہ میں نے اپنے دوست کے ساتھ کسی بات کی بنا پر یہ الفاظ کہے کہ" اگر میں نے آج کے بعد آپ کے ساتھ سلام و دعا کی تو مجھ پر میری بیوی ثلاثاْ طلاق ہوگی" میری مراد ہر قسم کے دوستانہ تعلقات تھے، پھر کچھ دن بعد میرے فون پر میرے اسی دوست نے فون کیا ،میں اس وقت باہر نکلا تھا ، فون میرے بھائی نے اٹھایا تھا، میرے بھائی کو اس مسئلے کے حوالے سے کوئی خبر نہ تھی، دوران فون میں گھر آیا تو میرے بھائی نے میرے دوست سے کہا وہ آگیا، تومیرے دوست نے میرے بھائی سے کہا کہ فلاں مجھ سے ناراض ہے ، بات نہیں کر تا موبائل فون اس کے کان پر رکھو، ایک ضروری بات کرنی ہے ، میں نے سوچا کہ شاید اس مسئلے کے حوالے سے کوئی حل بتائے گا ، کیونکہ میں نے اپنے دوست کو بتایا تھاکہ جب تک کوئی حل نہ نکلے، تب تک کوئی تعلق نہیں رکھوں گا، جب بھائی نے موبائل میرے کان پر رکھا تو دوست نےکہاسن رہے ہو؟ میں نے کہا جی اور کچھ نہیں بولا فون کا ٹنے تک، دوران فون دوست نے یہ بات کی کہ آپ مجھ سے ملو، ہمارے فائدے کی بات ہے، دوست کی باتیں سن کر میں نے فون کاٹ دیا ، نہ میں نے اس کے ساتھ بات کی ، نہ ہی ملاہوں ،پھر رات کو میسج کیا کہ باہر نکلو، وہ ضروری بات کرنی ہے، تو اسی تصور کی بناپر میں باہر نکلا کہ اس نے کسی عا لم سے مسئلہ پوچھ کر حل کیا ہو گا، جب میں نکلا تواس نے بتایا اچھا یہ بتاؤکیا کرناہے ، اس مسئلے کا مشورہ کرناتھا آپ سے ، تو میں نےغصہ ہوکر کہا اور باتیں بھی سنائی کہ آپ کا دماغ کام کررہا ہے یانہیں، جب تک یہ مسئلہ حل نہ ہو، تب تک کوئی تعلق نہیں رکھوں گا، اسی وقت گھر آیا، اس کے دو دن بعد میسج آیا کہ میں نے ایک مولوی صاحب سے یہ مسئلہ پو چھا ، تو مولوی صاحب نے کہا کہ صدقہ خیرات کر و یہ اتنا معاملہ نہیں ہے ، تو میں خوش ہوا کہ چلو مسئلہ تو حل ہوا، اس کے بعد ہم دونوں ایک دعوت میں جو ہم سب دوست ایک ہفتے میں رقم جمع کر کے کسی دوست کے گھر پر بناتے ہیں، اس طرح شریک ہوئے کہ دروازے میں ایک ساتھ داخل ہوئے ، باقی نہ پہلے کی طرح گپ شپ کی اس کے ساتھ، نہ تعلق رکھا، سوائے دوران مجلس ایسی بات کا جواب کہ جس کا جواب دیے سے کوئی چارہ نہ تھا، جب میں گھر آیا تو میرے ذہن میں یہ تمنا تھی کہ اس مولوی صاحب سے میں خود بھی ملوں ، تو میں نے اپنے دوست کو میسج کیا کہ کل مولوی صاحب کے پاس جائیں گے دونوں ، تو دوست نے جواب میں کہا کہ میں نے مسئلہ کسی سے نہیں پو چھا ہے ، میں مذاق کرر ہا تھا، اب پوچھنا یہ ہے کہ ایسی صورت میں میری بیوی پر ثلاثاْ طلاقع ہوئی یا نہیں؟
واضح ہو کہ سائل نے جب اپنے دوست کو مذکور الفاظ "اگر میں نے آج کے بعد آپ کے ساتھ سلام و دعا کی تو مجھ پر میری بیوی ثلاثاْ طلاق ہوگی " کہے تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں معلق ہوچکی تھیں ، چنانچہ اسکے بعد جب سائل نے مذکور دوست کیساتھ تعلق قائم کیا ، اور دوتین بار باتیں بھی کیں ، تو اسی وقت سے سائل کی بیوی پر معلق کردہ تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت عدت (تین ماہواریاں) گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کما فی الھندیۃ: وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق(فصل فی تعلیق الطلاق ج 1 ص420 ط:ماجدیہ)۔
وفی الھندیۃ: وان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃلم تحل لہ حتی تنکح زوجاغیرہ نکاحاً صحیحاً ویدخل بھا ثم یطلقھا اویموت عنھا کذا فی الھدایۃ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ج 1 ص473 ط: ماجدیہ)۔
وفی الھندیۃ: ولوقال لھاان کلمت فلانا فأنت طلاق وقال لھا أیضاأن کلمت انسانافأنت طالق فکلم فلانا طلقت تطلیقتین الخ (ج 1ص 428 ط: ماجدیہ)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0