ہدیہ

زندگی میں تقسیم جائیداد کا حکم

فتوی نمبر :
70695
| تاریخ :
2024-02-03
معاملات / مالی معاوضات / ہدیہ

زندگی میں تقسیم جائیداد کا حکم

السلام علیکم !
میرا سوال یہ ہے کہ میرے پاس کل جائیداد 10 مرلے پلاٹ کی شکل میں ہے، اور جس کو میں نے بیچا ہے 27 لاکھ روپے میں ، میرا ایک بیٹا چار بیٹیاں اور ایک بیوی ہیں ، اور میں نے وہ 27 لاکھ میں سے 26 لاکھ کا ایک اور پلاٹ لیا ہے ، میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ پلاٹ جو بعد میں لیا ہے اپنے بیٹے کے نام کردوں اور وہ جو 27 لاکھ تھا پہلے والے پلاٹ کا میں چاہتا ہوں وہ بیٹا اور بیٹیوں میں اور بیوی کا حصہ نکال کر تقسیم کر دوں ، ایک بیٹا چار بیٹیاں ایک بیوی میں میں کیسے تقسیم کروں گا ؟ برائے مہربانی شرعی اصول کے مطابق میری رہنمائی فرمائیں ، میں نے اپنی بیٹیوں کو ایسے نہیں دیے بلکہ اپنے بیٹے کے ذمہ لگایا ہے کہ جو ان کے پیسے بنتے ہیں بطور قرض اپنے پاس رکھ کر اپنی جگہ بنا کر پھر کما کر ان کو واپس کر دینا , میرا بیٹا حال مقیم قطر میں رہتا ہے کیا یہ شرعا جائز ہے ؟ اس کی رہنمائی فرمائیں ، کیا میں نے یہ ٹھیک کیا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتاہے وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرسکتا ہے ، اس پر اپنی حیات میں اس کی تقسیم بھی لازم نہیں ، اور نہ ہی کسی بیٹے ، بیٹی کےلئے اس کی جائیداد میں حصہ داری کے مطالبے کا حق حاصل ہوتا ہے ، لہٰذا سائل کے ذمہ بھی اپنی زندگی میں اپنا مال و جائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا کوئی لازم اور ضروری نہیں ، البتہ اگر سائل اپنی صحت والی زندگی میں بلاکسی جبر و اکراہ کے محض اپنی مرضی و خوشی سے اپنا مال و جائیداد وغیرہ اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً یہ بھی جائز ہے لیکن یہ تقسیمِ ترکہ نہیں بلکہ ہبہ اور گفٹ کہلاتا ہے ، جس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک محتاط اندازہ کے موافق اپنی بقیہ زندگی کےلئے جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر اور اپنی بیوی کو جو کچھ دینا چاہے وہ دے کر بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد کے درمیان برابر حصوں میں تقسیم کرکے ہر فرد کو اس کے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے تاکہ یہ ہبہ شرعاً بھی درست اور تام ہوجائے ، محض کاغذوں میں نام کردینا کافی نہیں ، پھر بہتر یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب کو برابر اور یکساں رکھے کہ سب ہی اس کی اولاد ہیں کسی کو زیادہ کسی کو کم نہ دے البتہ کسی کی خدمت گزاری ، محتاجی یا دین داری وغیرہ کی بناء پر اسے دوسروں کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کا اسے اختیار ہے ، مگر بلا وجۂ شرعی کسی کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے ، کیونکہ یہ گناہ کی بات ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی رد المحتار تحت: (قوله كما حققه مفتي دمشق إلخ) أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه - صلى الله عليه وسلم - قال «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير "اتقوا الله واعدلوا في أولادكم" فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى وقال محمد: ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزيا إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف، وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا يكون آثما في التخصيص وفي التفضيل، وليس عند المحققين من أهل المذهب فريضة شرعية في باب الوقف إلا هذه بموجب الحديث المذكور، والظاهر من حال المسلم اجتناب المكروه، فلا تنصرف الفريضة الشرعية في باب الوقف إلا إلى التسوية والعرف لا يعارض النص هذا خلاصة ما في هذه الرسالة، وذكر فيها أنه أفتى بذلك شيخ الإسلام محمد الحجازي الشافعي والشيخ سالم السنهوري المالكي والقاضي تاج الدين الحنفي وغيرهم اهـ (ج4، صـــ444، ط:سعید)۔
وفی الفتاوی الھندیۃ: ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية اھ (ج4، صـــ391، ط:ماجدیۃ)۔
وفی الفقہ الإسلامی وأدلتہ: لا خلاف بين جمهور العلماء في استحباب التسوية في العطاء بين الأولاد، وكراهة التفضيل بينهم في حال الصحة كما تقدم، واختلفوا في بيان المراد من التسوية المستحبة. فقال أبو يوسف من الحنفية، والمالكية والشافعية وهو رأي الجمهور: يستحب للأب أن يسوي بين الأولاد ـ الذكور والإناث ـ في العطية، فتعطى الأنثى مثلما يعطى الذكر؛ لقوله صلّى الله عليه وسلم: "سووا بين أولادكم في العطية، ولو كنت مؤثراً لآثرت النساء على الرجال" رواه سعيد بن منصور في سننه والبيهقي بإسناد حسن، وفي رواية للبخاري: "اتقوا الله واعدلوا بين أولادكم"، ولأن العدل في القسمة والمعاملة مطلوب، وقدحملوا الأمر في هذه الأحاديث على الندب اھ(ج4، صـــ704، ط:رشیدیہ)۔
وفی خلاصۃ الفتاوی: رجل لہ ابن وبنت اراد ان یھب لھما شیئاً فالأفضل ان یجعل للذکر مثل حظ الانثیین عند محمدؒ وعند ابی یوسفؒ بینھما سواء ھوالمختار لورود الاٰثار (الی قولہ) ولو اعطی بعض ولدہ شیئاً دون البعض لزیادۃ رشدہ لابأس بہ وإن کانا سواء لاینبغی أن یفضل اھ (ج4، صـــ400، ط:رشیدیہ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سفیان رشید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70695کی تصدیق کریں
0     527
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کسی کو ہدیہ یا گفٹ کرنے کا شرعی طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   ہدیہ 1
  • کیا کسی ہندو کا تحفہ قبول کیا جاسکتا ہے ؟

    یونیکوڈ   اسکین   ہدیہ 0
  • کوئی چیز ہبہ کر کے واپس لینا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں جائیداد کی تقسیم کا طریقہ کار

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • طلاق کے بعد شوہر کونسے گفٹ واپس لے سکتاہے؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • والد کا کسی ایک بیٹے کو ہدیہ دینا

    یونیکوڈ   ہدیہ 3
  • قبضہ دیے بغیر , فقط کاغذات میں مکان نام کرنے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • ماں کے لئے اپنی اولاد میں سے کسی ایک بیٹے کو گھر ہدیہ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • بیٹے کو ہبہ کردہ مکان میں بیٹیوں کے حصہ کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • انٹرسٹ فری پراویڈنٹ فنڈ میں ملنےوالی اضافی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • اپنی اولاد کے درمیان زندگی میں تقسیمِ جائیداد کی ایک صورت کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • والد کا بیٹوں کو گھر ہدیہ کرنے کے بعد بیٹیوں کا اس میں مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • باپ کے لئے تمام اولاد کے ساتھ برابری کا معاملہ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں تقسیم جائیداد کا حکم اور طریقۂ کار

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں جائیداد کی تقسیم کا طریقہ کار

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • کیا زندگی میں اپنے بہن بھائیوں اور ان کی اولاد میں جائیداد تقسیم کی جا سکتی ہے ؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 1
  • بیوی کے لیے شوہر کو ہدیہ کئے ہوئے سونے کا استعمال جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • والد مرحوم کی جانب سے زندگی میں دی جانے والی چیز میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • بڑے بیٹے نے ماں کے ساتھ رہتے ہوئے, ماں کے پلاٹ پر گھر تعمیر کیا

    یونیکوڈ   ہدیہ 1
  • قادیانی کمپنی کی تشہیری مہم میں شریک ہو کر گرانٹ وصول کرنا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • اولاد کے درمیان اپنی زندگی میں تقسیم جائیداد کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • بہن کے لئے بھائی سے والد کی طرف سے دی گئی جائیداد میں مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • مکان کی رقم اولاد کے درمیان کیسے تقسیم ہوگی؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں اولاد کے درمیان تقسیمِ جائیداد کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • نکاح میں بیوی کو شوہر کی جانب سے دیے گئے تحفوں کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
Related Topics متعلقه موضوعات