کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے چند برادری کے لوگوں کے ساتھ مل کر ایک زمین خریدی، جس کو برادری والوں نے قبرستان کے لئے وقف کردیا ، تو آیا یہ وقف کرنا صدقۂ جاریہ میں شمار ہوگا یا نہیں؟ اگر شمار ہوگا تو احادیثِ مبارکہ کی رو سے اس کی فضیلت بیان فرمائیں۔
واضح ہو کہ ہر ایسا صدقہ جس کا نفع لوگوں کو دائمی اور ہمیشگی کے ساتھ پہنچتا رہے،صدقہ جاریہ شمار ہوتا ہے، جبکہ مُردوں کو دفنانے کی خاطر زمین وقف کرنے کی صورت میں بھی چونکہ لوگ اس زمین سے ہمیشہ کے لئے مستفید ہوتے ہیں، اس لئے قبرستان کی وقف کردہ زمین بھی صدقہ جاریہ کے زمرے میں آتی ہے، اور صدقہ جاریہ کے مختلف فضائل بہت سی احادیث میں وارد ہوئے ہیں، جن میں سے چند ذیل میں درج کئے جاتے ہیں: ملاحظہ ہو!
و فی سنن ابن ماجہ: " إن مما یلحق المؤمن من عملہ و حسناتہ بعد موتہ: علما علمہ و نشرہ، و ولداً صالحاً ترکہ، أو مصحفاً ورثہ، أو نھراً اجراہ، أو صدقۃ اخرجھا من مالہ فی صحتہ و حیاتہ، تلحقہ من بعد موتہ" اھ ( باب ثواب معلم الناس الخیر ص 100 رقم الحدیث: 242 ط: دار الصدیق )۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: " مومن کو موت کے بعد جن اعمال کا ثواب پہنچتا ہے ان میں سے کچھ یہ ہیں: جو علم سکھایا اور پھیلایا، نیک اولاد جسے دنیا میں چھوڑ آیا، قرآن کریم کا نسخہ جو اس نے ترکہ میں چھوڑا، یا نہر جاری کروائی یا اپنی صحت اور زندگی میں اپنے مال سے نکالا ہوا صدقہ یہ سب اعمال مومن کی موت کے بعد مومن تک پہنچتے رہتے ہیں۔
و فی مجمع الزوائد: " عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ قال: ان النبی ﷺ قال: سبع یجری للعبد اجرھن و ھو فی قبرہ بعد موتہ: من علم علماً، أو کری نھراً، أو حفراً بئرا، أو غرس نخلاً، أو بنی مسجداً، أو ورث مصحفاً، أو ترک ولداً یستغفرلہ بعد موتہ" اھ ( حدیث: 3602 ط: المکتب الاسلامی بیروت )۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: سات اعمال ایسے ہیں جن کا اجر و ثواب بندے کو مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے، حالانکہ وہ قبر میں ہوتا ہے: جس نے علم سکھایا، یا نہر کھدوائی، کنواں کھودا، یا کوئی درخت لگایا، یا کوئی مسجد تعمیر کی، یا قرآن کریم ترکہ میں چھوڑا، یا ایسی اولاد چھوڑ کر دنیا سے گیا جو مرنے کے بعد اس کے لئے دعائے مغفرت کرے۔
کما فی صحیح مسلم: عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ: أن رسول اللہ ﷺ قال: إذا مات الانسان انقطع عملہ، الا من ثلاثۃ: الا من صدقۃ جاریۃ، أو علم ینتفع بہ، او ولد صالح یدعو لہ اھ
وفی حاشیۃ مسلم: قال العلماء: معنی الحدیث ان عمل المیت ینقطع بموتہ، و ینقطع تجدد الثواب لہ، الا فی ھذہ الاشیاء الثلاثۃ ( الی قولہ ) و کذلک الصدقۃ الجاریۃ، و ھی الوقف الخ ( باب ما یلحق الانسان من الثواب بعد وفاتہ ) ج 2 ص 1078 ط: بشری)۔
و فی التاترخانیۃ: إذا قال: أرضی ھذہ موقوفۃعلی الجھاد وفی الخانیۃ: أو فی الجھاد أو فی اکفان الموتی أو حفر القبور أو غیر ذلک مما یشبھھا فذلک جائز، وفی الخانیۃ: و یکون وقفاً علی ذلک السبیل، قال الفقیہ ابو جعفر: من ذکر موضع الحاجۃ علی وجہ یتأبد فذلک یکفی عن ذکر الصدقۃ الخ ( کتاب الوقف ج 8 ص 25 ط: رشیدیہ )۔