کیا فرما تے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ میری تقریبا ڈھائی کروڑ کی پراپرٹی ہے اور اولاد میں 4 بیٹے اور 6 بیٹیاں ہیں ، 5 بیٹیاں اور ایک بیٹا شادی شدہ ہیں ، باقی ایک بیٹی اور 3 بیٹے غیر شادی شدہ ہیں ایک 15 سالہ بیٹی ہے اور ایک بیٹا معذور بھی ہے ، میری بڑی بیٹی جائیداد میں حصہ کی طالب ہے اور باقی بیٹیاں اپنا اپنا حصہ بخوشی معاف کر رہی ہیں ، براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ کیا میں اپنی زندگی میں وراثت تقسیم کر سکتا ہوں ؟
2۔جو بیٹیاں اپنا حصہ جائیداد میں سے چھوڑ رہی ہیں ،کیا وہ بخوشی ایسا کر سکتی ہیں ؟
3۔چھوٹی 15 سالہ بچی کے لئے کیا حکم ہوگا ؟اس کا حصہ روکا جائیگا یا دیدیا جائیگا ؟
4۔میں جب تک زندہ ہوں ،کیا میں بھی اس جائیداد میں سے اپنے رہن سہن کے لئے کچھ رکھ سکتا ہوں یا نہیں ؟
5۔معذور بچے کے لئے کیا حکم ہوگا ؟ اسے بھی حصہ دیدیا جائیگا ؟
ان تمام مسائل میں رہنمائی فرمائیں اور ایک بیوی اور ان تمام بچوں میں وراثت کی تقسیم کا طریقہ بتائیں، تقریباً پونے دو کروڑ کی جائیداد ان میں کیسے تقسیم ہوگی ؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں اور عند اللہ ماجور ہوں ،شکریہ ،
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل اپنے تمام ذاتی مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے ، وہ اس میں جس طرح چاہے جائز تصرف کر سکتا ہے ، اس کے ذمہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان مال وجائیداد تقسیم کرنا لازم نہیں ہے ، اور نہ کسی بیٹے یا بیٹی کو اس میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہے اور نہ ہی کسی کو جائیداد تقسیم سے پہلے اپنا حصہ معاف کرنے کااختیار ہے ، لہذا سائل کے ذمہ بھی اپنی زندگی میں اپنا مال و جائیداد اولاد کے درمیان تقسیم کرنا لازم نہیں ، البتہ سائل اپنی مرضی سے بلا کسی جبر و اکراہ اپنا مال و جائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو شرعا ایسا کرنا بھی جائز اور درست ہے ، مگر یہ تقسیمِ ترکہ نہیں بلکہ ہبہ اور گفٹ کہلاتا ہے جس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی اور بیوی کی بقیہ زندگی کے لئے محتاط اندازے کے مطابق جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد (بیٹوں اور بیٹیوں ) میں تقسیم کرکے ہر فرد کو اس کے حصہ پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاً بھی درست ہو جائے ، محض کاغذات میں نام کر دینا یا زبانی کلامی دینا کافی نہیں ، پھر بہتر یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب اولاد (بیٹوں اور بیٹیوں )کو برابر و یکساں رکھے ، کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے کہ سب ہی اسکی اولاد ہیں ، البتہ اگر کسی بیٹے ، بیٹی کی خدمت گزاری ، دینداری ، معذوری و غیرہ کی بناء پر اسے دوسری اولاد کے مقابلے میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو شرعاً اس کی بھی اجازت ہے ، مگر بلا وجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے کہ یہ گناہ کی بات ہے۔
کما فی البحر الرائق: یکرہ تفضیل بعض الاولاد علی البعض فی الھبۃ حالۃ الصحۃ(الی قولہ)وفی الخلاصۃ المختار التسویۃ بین الذکر و الانثی فی الھبۃ(کتاب الھبۃ۔ج 7 ص 788)۔
وفی رد المحتار : ولو وھب شیئا لاولادہ فی الصحۃ واراد تفضیل البعض علی البعض روی عن ابی حنیفہ لا باس بہ اذا کان التفضیل لزیادۃ فضل الدین الخ (ج 4 ص 444)۔
وفی الھندیۃ: ومنھا (من شرائط الھبۃ) ان یکون الموھوب مقبوضا حتی لا یثبت الملک للموھوب لہ قبل القبض الخ (ج 4 ص 374)۔
وفی تنقیح الحامدیۃ: (سئل) في أحد الورثة إذا أشهد عليه قبل قسمة التركة المشتملة على أعيان معلومة أنه ترك حقه من الإرث وأسقطه وأبرأ ذمة بقية الورثة منها ويريد الآن مطالبة حقه من الإرث فهل له ذلك؟ (الجواب) : الإرث جبري لا يسقط بالإسقاط وقد أفتى به العلامة الرملي كما هو محرر في فتاواه من الإقرار نقلا عن الفصولين وغيره الخ(ج 2 ص 27)۔