فرحان کے والد صاحب نے غصے میں قسم اٹھا کر بولا ” کہ اگر آج کے بعد میں فرحان کے ہاتھوں کی کمائی کھاؤں یا فرحان کے پیسے استعمال کرو ں تو میری بیوی مجھ پر طلاق ہے “ اس کے بعد فرحان والد صاحب سے الگ ہو گیا اس ڈر کی وجہ سے کہ اگر میرے والد نے میری کمائی کھا لی تو میری والدہ کو طلاق ہوجائے گی ، اب کچھ وقت گزرنے کے بعد فرحان اور اس کے والد صاحب کو یہ احساس ہوا کہ غصے میں اٹھائی جانے والی قسم ایک غلطی تھی اب وہ دونوں ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور فرحان کی کمائی کھانا چاہتے ہیں مگر قسم کی وجہ سے ابھی تک کشمکش کا شکار ہیں ، اس بارے میں اب شریعت کا کیا حکم ہے ؟ شکریہ ۔
شخصِ مذکور نے اپنے بیٹے کی کمائی کھانے اور ان کے پیسے استعمال نہ کرنے کی غرض سے مذکور الفاظ ” اگر آج کے بعد میں فرحان کے ہاتھوں کی کمائی کھاؤں یا فرحان کے پیسے استعمال کرو ں تو میری بیوی مجھ پر طلاق ہے “ فقط ایک بار کہے ہوں، تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق معلق ہوچکی ہے، شخصِ مذکور جب بھی اپنے بیٹے کی کمائی کھائے گا یا اس کا پیسہ استعمال کرے گا تو اس کی بیوی پر معلق ایک طلاقِ رجعی واقع ہوجائے گی، جس کے بعد اسے دورانِ عدت رجوع کا حق حاصل ہوگا، چنانچہ اگر وہ دورانِ عدت زبانی طور پر بیوی کو ”میں رجوع کرتا ہوں “ وغیرہ جیسے الفاظ کہہ دے یا عملاً میاں بیوی والے تعلقات قائم کرلے تو اس سے رجوع درست ہوکر میاں بیوی کا نکاح حسبِ سابق برقرار رہے گا، اور دونوں کا میاں بیوی کی طرح ساتھ رہنا بھی جائز ہوگا، جبکہ اس ایک طلاق کے بعد اپنے بیٹے کی کمائی کھانے اور ان کے پیسے استعمال کرنے کی صورت میں اس کی بیوی پر مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، البتہ آئندہ کےلئے شوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا، اس لئے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط چاہیئے۔
کما فی البحر الرائق: ولو حلف لا يأكل من كسب فلان فأكل كسرة مطروحة في بيت المحلوف عليه فإن كانت الكسرة بحال لا يعطى مثلها الفقير لا يحنث، وإن كان بحال يعطى مثلها الفقير يحنث اھ (ج4،صـــ338،ط:ماجدیۃ)۔
وفی الفتاوی الھندیۃ: وإذا حلف لا يأكل من كسب فلان فورث المحلوف عليه شيئا وأكله الحالف لا يحنث ولو اشترى شيئا أو وهب له شيء أو تصدق عليه بشيء وقبل فأكله الحالف حنث في يمينه ولو حلف لا يأكل من كسب فلان فاشترى شيئا الحالف من المحلوف عليه مما اكتسبه المحلوف عليه أو وهب المحلوف عليه ذلك من الحالف وأكله لا يحنث ولو حلف لا يأكل من كسب فلان فاكتسب المحلوف عليه مالا ومات وورثه رجل فأكله الحالف حنث في يمينه وكذلك لو ورثه الحالف فأكل يحنث بخلاف ما لو انتقل إلى غيره بغير الميراث بشراء أو وصية لا يحنث كذا في الذخيرة اھ (ج2،صـــ88،ط:ماجدیۃ)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0