میرا سوال یہ ہے کہ میری بیوی کی بہن کی شادی 15/2/2024 کو تھی اور شادی سے دو دن پہلے 13/2/2024 کو میں نے بات چیت کے دوران اپنی بیوی کو کہا کہ اگر میں کل تمہاری بہن کے گھر گیا یعنی 14/2/2024 کو تو پھر ہمارے رشتہ میں تین طلاق واقع ہوجائے گی، لیکن میں اس کہے ہوئے وقت اور کہی ہوئی جگہ پر نہیں گیا، بلکہ میں 15/2/2023 کو اُس جگہ گیا، تو اب سوال یہ ہے کہ کیا طلاق ہوئی ہے یا نہیں؟
سائل نے جب اپنی بیوی کو مذکور الفاظ " اگر میں کل تمہاری بہن کے گھر گیا یعنی 14/2/2024 کو تو پھر ہمارے رشتہ میں تین طلاق واقع ہوجائے گی" کہے تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں معلق ہوچکی تھیں، چنانچہ اگر سائل واقعۃً مقررہ تاریخ 14 فروری 2024 کو اپنی خواہر نسبتی ( سالی ) کے گھر نہیں گیا تو اس سے قسم پوری ہوچکی، چنانچہ مذکور تاریخ کے بعد اس گھر میں جانے کی وجہ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، لہٰذا دونوں حسبِ سابق ساتھ رہ سکتے ہیں، تاہم آئندہ کے لئے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کما فی التاتارخانیۃ: اذا جعل الحالف لیمینہ غایۃ وفاتت الغایۃ بطلت الیمین الخ ( کتاب الایمان ج 4 ص 436 ط: ادارۃ القرآن )۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0