السلام علیکم !
میری دادی فوت ہوئی ہیں ، ان کی جائیداد میں سے 1 کروڑ میرے ابو کو ملا ہے ، ابو اسے میرے چچا کو دینا چاہتے ہیں تحفے کے طور پر، جبکہ چچا کو اپنا حصہ پہلے ہی مل چکا ہے ، کیا میرے والد کے لئے ایسا کرنا ٹھیک ہے یا ہمارے لئے بھی اس میں کوئی حق ہو گا؟
سائلہ کے والد کو والدہ مرحومہ کے ترکے میں سے جو رقم ملی ہے وہ شرعاً اسکی ملکیت ہے جس میں اسے تصرف کرنے یا کسی کو تحفے وغیرہ کے طور پر دینے کا اختیار حاصل ہے ، تاہم اگر سائلہ اور اس کے دیگر بہن بھائی مجبور و مستحق ہوں تو سائلہ کے والد کو چاہیئے کہ ساری رقم اپنے بھائی کو دینے کے بجائے اپنی اور اپنی اولاد کی ضروریات کے لئے بھی کچھ رقم بچا کے رکھے۔
کما فی صحیح البخاری: عن سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه قال:جاء النبي صلى الله عليه وسلم يعودني وأنا بمكة، وهو يكره أن يموت بالأرض التي هاجر منها، قال: يرحم الله ابن عفراء. قلت: يا رسول الله، أوصي بمالي كله؟ قال: لا. قلت: فالشطر؟ قال: لا. قلت: الثلث؟ قال: فالثلث والثلث كثير، إنك أن تدع ورثتك أغنياء، خير من أن تدعهم عالة يتكففون الناس في ایدیھم (کتاب الوصایا۔رقم 2591)۔
وفی الدر المختار: ومن اراد التصدق بمال کلہ وھو یعلم من نفسہ حسن التوکل والصبر عن المسالۃ فلہ ذلک والا فلا یجوز الخ (ج 2 ص 357 ط: سعید)۔