میرے شوہر نے مجھے کہا اگر عدالت یا تھانے گئی تو تم کو مجھ سے طلاق ہے اس کے گھر والوں نے مجھے بہت تنگ کیا تھا وہ بھی ہمیشہ مجھے مارتے ہیں گھر سے نکال دیتے ہیں مجھے جان سے مارنے کی کوشش کی پھر بار بار مجھے کہتا ہے کہ جاو نا کیوں نہیں جاتی عدالت , پھر آخر میں مجبورہو کر گئی میں طلاق نہیں چاہتی ہوں، تو کیا اب مجھ پر طلاق واقع ہو گئی؟
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر نے اگر مذکور الفاظ"اگر عدالت یا تھانے گئی تو تم کو مجھ سے طلاق ہے" فقط ایک بار کہے ہوں تو اس سے سائلہ پر ایک طلاقِ رجعی معلق ہو چکی تھی ،چنانچہ اس تعلیق کے بعداگر سائلہ عدالت یا تھانے گئی ہو تو اس سے سائلہ پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو چکی ہے ، جس کے بعد دوران عدت شوہر کو رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہے،چنانچہ اگر شوہر قولاْ یا عملاْ رجوع کرلے تو دونوں کا نکاح حسبِ سابق بر قراررہے گا ، البتہ اگر شوہر نے دروانِ عدت رجوع نہیں کیا تو عدت گزرنے سے یہ طلاق , طلاقِ ِ بائن بن جائے گی ، اور اس سے دونوں میاں بیوی کا نکاح ختم ہو جائے گا جس کے بعد شوہر کو رجوع کرنے کا اختیار نہ ہوگا ، تاہم عدت گزرنے کے بعد بھی اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں ،تو اسکے لئے باضابطہ گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ ایجاب وقبول کرکےدوبارہ نکاح کرنا لازم ہوگا ، مگر بہر دو صورت آئندہ کے لئے شوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا ، اس لئے آئندہ طلاق کےمعاملہ میں احتیاط سے کام لینا چاہئیے۔
کما فی التاترخانیۃ:اذا قال لامراتہ انت طالق لو دخلت الدار لم تطلق حتی تدخل الدار الخ(ج 2 ص 61)۔
وفی الھدایۃ: الطلاق على ضربين صريح وكناية فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي الخ(باب ایقاع الطلاق،ج 2،ص 61،ط: انعامیہ)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0