جناب مفتی صاحب! گزارش یہ ہے کہ میرے دو بیٹے ایک کا نام حسین احمد اور دوسرے کا نام فرید احمد ہے ،چند سال پہلے میری اپنی گھر والی مرحومہ کے ساتھ ان کے رشتے کے بارے میں کچھ گفتگو ہوئی، ان کو اس گفتگو کا پتہ چل گیا تھا کہ والدین ہمارے لئے کہیں رشتہ کرانا چاہتے ہیں، جب میں گھر میں نہیں تھا، تو انہوں نے ( ان دونوں نے) اپنی ماں کو یہ الفاظ کہے تھے "آپ (والدین)جس عورت کے ساتھ ہمارا رشتہ کرو گے، وہ قیامت تک ہم پر طلاق ہیں،" پھر بولے تھے، "ہم جس عورت کے ساتھ رشتہ کریں گے، وہ قیامت تک ہم پر طلاق ہیں"اب ان دونوں کی والدہ وفات پا چکی ہیں، میں ان کا رشتہ کرانا چاہتا ہوں ، اس لیے درج ذیل امور کے بارے میں شرعی حکم معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ نمبر ایک: آیا ان کے لیے نکاح کی کوئی صورت بن سکتی ہے یا نہیں؟ نمبر 2:میں بحیثیت والد ان کا نکاح کراؤں گا ، لیکن انہوں نے وہ اوپر والے الفاظ بولے ہیں، جن کی وجہ سے میرا راستہ رک گیا ہے ،کیا یہ ہو سکتا ہے کہ میں باقی تمام باتیں جو رشتہ کے متعلق ہوں، وہ خود طے کروں، لیکن نکاح کا معاملہ کسی تیسرے شخص کے حوالے کر دوں؟ اور کیا میں نکاح کی مجلس میں حاضر ہو سکتا ہوں یا نہیں؟ مجھے اس صورت میں کون کون سے کام کرنے کی گنجائش ہے ، اور کن کاموں سے بچنا چاہیے ؟کیونکہ میں ان کا والد ہوں، رشتہ کرنے والوں سے سارے معاملات میں نے طے کرنے ہیں۔ نمبر 3: نکاح ہونے کی صورت میں جب میرے بیٹوں کو معلوم ہو جائے گا کہ ان کا نکاح ہو گیا ہے ، تو انہیں کن امور سے بچنا چاہیے تاکہ نکاح برقرار رہے ، کیونکہ نکاح کے بعد لوگ انہیں مبارکباد دیتے ہیں ، جبکہ فتاوی فریدیہ میں لکھا ہے کہ ایسا شخص مبارکباد قبول نہیں کر سکتا! آیا نکاح کے بعدوہ اپنی منکوحہ کے پاس کپڑوں کا کوئی جوڑا یا کوئی اور چیز بیچ سکتے ہیں یا نہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ الفاظ "آپ (والدین)جس عورت کے ساتھ ہمارا رشتہ کرو گے، وہ قیامت تک ہم پر طلاق ہیں"الخ کہنے کے ساتھ ہی طلاق معلق ہو چکی ہے، لہذا اب اگر سائل یا اس کے بیٹے نکاح کریں گے،اس طور پر کہ سائل مجلسِ نکاح میں موجود رہ کر باقاعدہ ان کا نکاح کرائےاور یہ دونوں لڑکے خود قبول کرلیں،تو اس کے ساتھ ہی ان کی ہونے والی بیویوں پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو کر نکاح ختم ہونے کے ساتھ شرط بھی مکمل ہو جائے گی اور اس کے بعد دوبارہ تجدیدِ نکاح کرنے کی صورت میں مزید کوئی طلاق واقع نہ ہو گی،اس لئے سائل کو چاہیئے کہ سوال میں درج طریقہ کار کے بجائے نکاح کی اصل مجلس سے قبل انفرادی طور پر ان بچیوں کو اعتماد میں لے کر پہلے باقاعدہ ایجاب و قبول کے ساتھ نکاح کرے،اور اس کے بعد شرط مکمل ہونے پر عمومی مجلس میں نکاح کا اہتمام کریں،چنانچہ یہ نکاح بلاشبہ درست ہوں گے،تاہم آئندہ کے لئے سائل کے بیٹوں کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار ہو گا۔
کما فی الدر المختار: و) يقع (ب) قوله (أنت طالق بائن أو ألبتة)(الی قولہ)(أو أكبره أو أعرضه أو أطوله، أو أغلظه أو أعظمه واحدة بائنة) في الكل لأنه وصف الطلاق بما يحتمله (إن لم ينو ثلاثا) في الحرة وثنتين في الأمة الخ
و فی الشامیۃ تحت: (قوله أو أفحش الطلاق) أشار به إلى كل وصف على أفعل
مما يأتي لأنه للتفاوت وهو يحصل بالبينونة، وهو أفحش من الطلاق الرجعي بحر ( الی قولہ ) الحاصل أن الوصف بما ينبئ عن الزيادة يوجب البينونة والتشبيه كذلك الخ ( کتاب الطلاق،مطلب الانقلاب والاقتصار والاستناد والتبيين،ج 3، ص 277،ط: سعید)۔
وفیہ ایضاً:(و فيها) كلها (تنحل) أي تبطل (اليمين) ببطلان التعليق (إذا وجد الشرط مرة إلا في كلما فإنه ينحل بعد الثلاث) لاقتضائها عموم الأفعال الخ
وفی الشامیۃ تحت : (قوله أي تبطل اليمين) أي تنتهي و تتم ، و إذا تمت حنث فلا يتصور الحنث ثانيا إلا بيمين أخرى لأنها غير مقتضية للعموم و التكرار لغة نهر الخ ( کتاب لطلاق، باب التعلیق ج 3،ص 352،ط: سعید)۔
و فیہ ایضاً : (وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) الخ
وفی الشامیۃ تحت : قوله وتنحل اليمين إلخ) لا تكرار بين هذه وبين قوله فيما سبق وفيها تنحل اليمين إذا وجد الشرط مرة لأن المقصود هناك الانحلال بمرة في غير كلما وهنا مجرد الانحلال اهـ ح ولأنه هنا بين انحلالها بوجودها في غير الملك بخلاف ما سبق ط (قوله مطلقا) أي سواء وجد الشرط في الملك أو لا كما يدل عليه اللاحق ح الخ ( کتاب الطلاق، باب التعلیق،ج 3، ص 355،ط؛سعید)۔
و فی الھندیة:إذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح نحو أن يقول لامرأة: إن تزوجتك فأنت طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق الخ ( کتاب الطلاق الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق الخ، ج 1، ص 420، ط : ماجدیۃ )۔
وفی الھدایة: " وإذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح مثل ان یقول : إن تزوجتك فأنت طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق الخ (کتاب الطلاق، باب الایمان فی الطلاق،ج 2، ص 385)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0