ایک لڑکے نے بولا کہ میں نے فلاں لڑکی ( علیشبہ) کو میسج کیا یا کسی کے ذریعے پیغام پہنچایا تو میں کلما کی قسم کھاتا ہوں کہ جو بھی میری بیوی بنے گی وہ مجھ پر طلاق ہوگی ، تو اس صورت میں کیا اس کی کوئی گنجائش ہے کفارہ وغیرہ کی ؟اور کیا یہ لڑکا جس نے قسم کھائی ہے ،تو اگر قسم توڑ دی تو کیا اس لڑکی سے نکاح کر سکتا ہے؟ کیونکہ یہ نیت میں نہیں تھی ، اور بات اسی کے بارے میں چل رہی تھی تو اس کا بیوی بننے کا خیال نہیں تھا ، اور اگر قسم کو توڑا تو کیا دوسری بیوی سے نکاح ناممکن ہے ؟ اور اگر ممکن ہے تو اس کی کیا صورت ہے؟
صورتِ مسؤلہ میں مذکور لڑکے نے مذکور الفاظ "میں کلما کی قسم کھاتا ہوں" کے بعد جب یہ الفاظ کہے کہ"جو بھی میری بیوی بنے گی وہ مجھ پر طلاق ہوگی" تو شرعاً یہ کلما کی قسم تو نہ ہوئی، لیکن ان الفاظ کے استعمال سے ایک طلاق معلق ہوچکی ہے، جس سے رجوع یاکفارہ کے ذریعہ اس تعلیق کو ختم نہیں کیا جاسکتا ، چنانچہ اب جب کبھی مذکور لڑکا پہلی مرتبہ جس عورت سے بھی نکاح کرے گا تو اس پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوکر نکاح ختم ہوجائے گا، جس کے بعد اسی مطلقہ عورت سے تجدید نکاح کرنا یا دوسری عورت سے اس کے لئے نکاح کرنا درست ہوگا، اور اس دوسرے نکاح سے بیوی پر کوئی طلاق بھی واقع نہ ہوگی، تاہم اگر مذکور لڑکے نے مسماۃ علیشبہ یا کسی بھی نامحرم لڑکی سے غیر شرعی تعلقات اور بات چیت نہ کرنے کی قسم کھائی ہو، تو اسے اس قسم کی پاسداری کرتے ہوئے مذکور لڑکی سمیت کسی بھی نامحرم لڑکی سے غیر ضروری وغیر شرعی بات چیت اور تعلق رکھنے سے احتراز لازم ہے۔
کما فی التاتارخانیۃ: و قیل: "ایۃ امرأۃ زوجت نفسھا منی" فھذا علی کل مرۃ ، و لوقال: ھرکدام زن کہ بزنی کنم فھی طالق، فھذا یقع علی امرأۃ واحدۃ مرۃ واحدۃ، و ھو الصحیح ذکرہ فی الخانیۃ اھ(نوع فی بیان حروف الشرط: ج 5، ص 57، ط: رشیدیہ)۔
و فی الدر المختار: (و تنحل) الیمین (بعد) وجود (الشرط مطلقاً) لکن ان وجد فی الملک طلقت الخ (باب التعلیق، ج 3، ص 355، ط: سعید)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0