میں ایک یورپی ملک میں رہ رہا ہوں، جہاں رہائش کے لئے ماہانہ کرایہ ادا کرنا عام ہے، مجھے کچھ فتوے ملے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ بینک سے قسطوں کی ادائیگی کے ذریعے مکان خریدنا کسی حد تک جائز ہے، میرے ملک میں، عام عمل میں بینک کا براہ راست میرے لئے گھر خریدنا شامل نہیں ہے، اس کے بجائے مجھے ایک گھر ملتا ہے، جسے میں خریدنا چاہتا ہوں اور پھر اس خریداری کے لئے مالی اعانت کے لئے قرض کے لئے بینک سے رجوع کرتا ہوں، بینک مجھے مطلوبہ قرض کی رقم فراہم کرتا ہے، جس کے بعد میں مطلوبہ مدت، اکثر 20، 25، یا 30 سالوں میں مؤخر اقساط کے ذریعے ادا کرتا ہوں، بعض افراد نے کہا ہے کہ یہ انتظام صرف غیر مسلم ممالک میں حلال (جائز) ہے۔ میں اس قسم کے ہاؤس فنانسنگ کی اجازت کے بارے میں صحیح حکم کی وضاحت چاہتا ہوں، مزید برآں، میرے ملک میں، 36 سال سے کم عمر کے پہلی بار گھر خریدنے والوں کے لئے ایک فائدہ ہے، جہاں وہ %3 تک اضافی ادائیگی یا سود کی شرح کے ساتھ ہاؤس لون حاصل کر سکتے ہیں، میرا سوال یہ ہے کہ اقساط کی ادائیگی اور اضافی سود کے ساتھ بینک قرض کے ذریعے اس قسم کی ہاؤس فنانسنگ اسلامی اصولوں کے مطابق جائز ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ مورگیج کے ذریعہ ، حصولِ مکان کی صورت میں بھی اگر سودی معاملہ کرنا پڑتا ہو ( جیسا کہ سائل نے لکھا ہے ) تو یہ بلا شبہ نا جائز ہے اور اس سے احتراز لازم ہے ۔ البتہ اس کے جواز کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ اگر کوئی ادارہ یا بینک وغیرہ مطلوبہ مکان کی باضابطہ نقد خریداری کر کے اس پر اپنا مالکانہ قبضہ بھی کرلے اور اس کے بعد ادھار معاملہ کے ذریعہ قسطوں پر یہ مکان سائل پر فروخت کر دے اور اسی طرح قسطوں کے معاملے میں ابتدأً ہی یہ طے کر لیا جائے کہ یہ ادھار اورقسطوں کا معاملہ ہوگا ، اس میں کل اتنی قسطیں ہونگی اور ہر قسط کی مالیت یہ ہوگی اور کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر ہونے پر کوئی چارجز بھی وصول نہ کیے جائنگے اور جو سود کی رقم ادارہ لینا چاہتا ہے اس کو قیمت کا حصہ شمار کیا جائے تو اس طرح کا معاملہ شرعاً بھی جائز ہوگا اور اس طرح شرعی شرائط کو ملحوظ رکھ کر معاملہ کرنے سے ہر شخص اپنے ذاتی مکان کا مالک بھی بن سکتا ہے ۔
قال اللہ تعالی: وَ اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الْرِبٰوا الآیۃ ( آیتـ275 سورۃ البقرۃ)
و فی الدر المختار: ( و صح بثمن حال) و ھو الأصل (ومؤجل إلی معلوم) لئلا یفضی إلی النزاع الخ اھ
و فی رد المحتار: تحت ( قولہ لئلا یفضی إلی النزاع) تعلیل لاشتراط کون الأجل معلوما (إلی قولہ) و منھا اشتراط أن یعطیہ الثمن علی التفاریق أو کل اسبوع البعض، فإن لم یشترط فی البیع بل ذکر بعدہ لم یفسد ، و کان لہ أخذ الکل جملۃ و تمامہ فی البحر الخ (کتاب البیوع مطلب فی التأجیل الخ ج 4 صـ 531 ط: سعید)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1