السلام علیکم !
مفتی صاحب میرا نام محمد ارشد ولد غلام محمد ہے ، میں نے اپنی 4 ڈیلنگ مشین کا سودا بروکر جاوید کے ذریعے مورخہ 26 نومبر 2023 کو تنویر صاحب فیصل آباد والے سے 66 لاکھ میں طے کیا تھا جسکا ٹوکن 10 لاکھ وصول کیا گیا ، اس مشین کو فروخت کرکے میں دوسری مشین لے رہا تھا جو کہ فروخت کنندہ نے کسی اور کو فروخت کردی جسکی وجہ سے میں نے اپنی 4 ڈیلنگ مشین فروخت کرنے کا ارادہ باہم مشورے سے منسوخ کر دیا ، اب میں تنویر صاحب کو 10 لاکھ واپس کر رہا ہوں تو وہ کہتے ہیں ٹوکن کے پیسے ڈبل لونگا ،مطلب 10 لاکھ کے 20 لاکھ لونگا چونکہ سودا میں(ارشد) نے کینسل کیا ہے ،براہ مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب بتائیں مجھے کیا کرنا چاہئیے ؟ جزاک اللہ۔ ،
سائل نے اگر مذکور مشین مسمی تنویر نامی شخص کو مبلغ چھیاسٹھ لاکھ روپے میں فروخت کی ہو اور قیمت میں سے کچھ رقم ٹوکن کے نام سے وصول کر چکا ہو تو ایسی صورت میں شرعاً یہ معاملہ مکمل ہو چکاہے ، چنانچہ اب سائل کے لئے یکطرفہ طور پر اس معاملے کو ختم کرنے کا شرعاً حق حاصل نہیں ، بلکہ سائل کے ذمہ مذکور مشین تنویر نامی شخص کو حوالے کر دینا لازم اور ضروری ہے ، البتہ اگر مسمی تنویر اس معاملے کو ختم کرنے پر رضامند ہوجائے اور باہمی رضامندی سے یہ معاملہ ختم کیا جائے تو ایسی صورت میں مسمی تنویر نے ٹوکن کے نام سے سائل کو جو رقم دی ہے اس کے لئے سائل سے اس کی دگنی رقم وصول کرنا شرعاً جائز نہ ہوگا بلکہ اسےفقط اپنی رقم واپس لینے کا حق حاصل ہوگا ۔
کما فی سنن ابی داود: عن عبد اللہ بن عمرو قال: نھی رسول اللہﷺعن بیع العربان الحدیث(رقم:3502)۔
وفی حجۃ اللہ البالغۃ: ونھی عن بیع العربان وھو ان یقدم الیہ شیئ من الثمن فان اشتری حسب من الثمن والا فھو لہ مجانا وفیہ معنی المیسر الخ(ج 2 ص 167 ط:دار الجیل)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1