زید نےکہا اگر میری شادی 2023 میں نہیں کی گئی تو اگلے پانچ سالوں تک میں یا کوئی اور میری منکوحہ کی رخصتی کریں یا کروالیں تو میری بیوی پر ایسی ہی طلاق ہو جیسی کلما والی طلاق ، مفتی صاحب! رخصتی کی صورت میں منکوحہ پر طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ اور کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟
صورتِ مسئولہ میں زید نے جو الفاظ کہے" اگر میری شادی 2023 میں نہیں کی گئی تو اگلے پانچ سالوں تک میں یا کوئی اور میری منکوحہ کی رخصتی کریں یا کروالیں تو میری بیوی پر ایسی ہی طلاق ہو جیسی کلما والی طلاق " تو اس سے تعلیقِ طلاق منعقد ہوچکی ہے، چنانچہ اگر اگلے پانچ سالوں میں زید کی منکوحہ کی رخصتی کرالی جائے تو اس سے زیدکی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوجائے گی، جس کے بعد اگر دونوں میاں بیوی دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ تجدیدِ نکاح کر نےکےبعد ایک ساتھ رہ سکیں گے، تاہم آئندہ کے لئے زید کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
و فی الھندیۃ: وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق الخ ( فصل فی تعلیق الطلاق ج 1 ص420 ط: ماجدیۃ)۔
کما فی الھندیۃ:فان كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز. الخ ( کتاب الطلاق ج 1 ص 472 ط: ماجدیۃ)۔
وفیہ ایضاً: ذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح نحو أن يقول لامرأة: إن تزوجتك فأنت طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق وكذا إذا قال: إذا أو متى وسواء خص مصرا أو قبيلة أو وقتا أو لم يخص وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك والإضافة إلى سبب الملك كالتزوج كالإضافة إلى الملك فإن قال لأجنبية: إن دخلت الدار فأنت طالق ثم نكحها فدخلت الدار لم تطلق كذا في الكافي الخ ( الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق ج 1 ص 420 ط: ماجدیۃ)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0