السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا قسط پر بائیک زیادہ قیمت میں لینا جائز ہے ؟
واضح ہو کہ اگر درج ذیل شرائط کا لحاظ رکھا جائے تو نقد کے مقابلے قسطوں پر خریدوفروخت میں زیادہ قیمت طے کرنا جائز اور درست ہوگا :(1) مجلسِ عقد میں طے کرلیا جائے یہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہوگا (2)ہر قسط کی مالیت طے کر لی جائے (3) یہ بھی طے کر لیا جائے کہ کل کتنی قسطیں ہونگی (4) کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر ہو نے کی وجہ سے کوئی جرمانہ وغیرہ مشروط نہ ہو ، چنانچہ ان شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے نقد کے مقابلے میں قسطوں پر زیادہ قیمت میں بائیک خریدنا بلا شبہ جائز اور درست ہے ۔
کما قال اللہ تعالی: وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا الآیۃ (آیتـ 275 سورۃ البقرۃ)
وفی الدر المختار: (وصح بثمن حال) وهو الأصل (ومؤجل إلى معلوم) لئلا يفضي إلى النزاع الخ (کتاب البیوع ج 4 صـ 531ط: سعید)
وفی فقہ البیوع: وکما یجوز ضرب الأجل لأداء الثمن دفعۃً واحدۃً ، کذلک یجوز ان یکون اداء الثمن بأقساط، بشرط أن تکون آجل الأقساط ومبالغھا معینۃ عند العقد ، وقد یسمی " البیع بالتقسیط" الخ (المبحث الخامس ج 1 صـ 539 ط: معارف القرآن)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1